السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
برائے مہربانی ہمیں مندرجہ ذیل سوال کا فتویٰ یا جواب عنایت فرمائیں - زید پہلے بھی اپنی بیوی کو دو بار طلاق دے چکا تھا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ کے سامنے زید کی بیوی نے وعدہ کیا کہ وہ اسے طلاق نہیں دیں گے۔ زید کی بیوی کی طبیعت میں بہت غصہ تھا۔ایسا دو تین بار ہوا تھا کہ زید کی بیوی نے زید کے منہ پر تھپڑ مارا۔زید نے اسے کہا کہ ایسا نہ کرو کیونکہ وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ جب بھی ایسا ہوا زید نے خود ہی اس کے منہ پر تھپڑ مارنا شروع کر دیا اور پیشانی دیوار پر مار دی۔زید کی بیوی ہمیشہ طویل لڑائی لڑتی رہتی ہے جس کا ان کے گھر سے کوئی تعلق نہیں۔ عید الاضحی پر ایسا ہی ہوا۔ زید کے ذہن میں بھی تھا کہ اسے مسئلہ ہے اور اسے برداشت کرنا چاہئیے۔ لیکن جب ایک بار پھر زید کی بیوی نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا اور زید کو طلاق دینے پر اکسانا شروع کر دیا۔ زید نے بہت بری طرح اپنے ہی منہ پر تھپڑ مارنا شروع کر دیا اور کئی بار سر دیوار پر مارا اور وہ روتا ہوا تھپڑ مارتا رہا۔ اس کی بیوی اسے مسلسل طلاق دینے پر اکسا رہی تھی۔ وہ مسلسل اپنے آپ کو پیٹتا رہا اور ایک دم اس نے سانس لینا بند کر دیا، وہ سانس نہیں لے پا رہا تھا اس نے کھانسنے کی کوشش کی،اسے قے کی طرح محسوس ہوا۔ اس کی سانسیں بند ہو گئیں، اس کا چہرہ سرخ ہو گیا دونوں آنکھیں باہر آ گئیں اور وہ اپنے ہوش میں نہیں تھا، اس وقت اس نے کہا میں نے تمہیں طلاق دی. یہ کہتے وقت وہ ہوش میں نہیں تھا۔ جب اسے ہوش آیا تو اسے احساس ہوا کہ اس نے کیا کیا ہے۔ وہ روئے اور اللہ سے معافی مانگتے ہوئے سجدے میں چلے گئے۔ کیا یہ طلاق واقع ہوئی حالانکہ وہ واقعی اپنے حواس میں نہیں تھا، اس کی سانسیں رک گئی تھیں۔ جس کی وجہ سے چہرہ سرخ اور آنکھیں باہر نکل رہی تھیں۔برائے مہربانی مدد کریں۔
واضح ہو کہ غصہ کی شدت سےمغلوب ہوکر طلاق دینے کی صورت میں بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے۔البتہ اگر اس شدت سےغصہ آجائےکہ وقتی طورپرعقل ہی زائل ہوجائےاورموقع پراپنےافعال واقوال کااسے علم نہ ہوسکے کہ کیاکررہاہوں اورکیاکہہ رہاہوں اوربعدمیں بھی اسےیاد نہ پڑتاہو کہ اس نے کیاکہاہے اورکیافعل اس سے صادرہوا ہے،توایسی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔لہذا صورت مسئولہ میں مسمی زیدکی اگرچہ اعصابی کمزوری وغیرہ طبی وجوہات کی بناء پر سوال میں مذکور کیفیت ہوگئی ہو تاہم اسے چونکہ اپنےاقوال وافعال کا علم تھا (جیسا کہ سوال سے معلوم ہورہا ہے)اس لئے وہ زائل العقل شمار نہیں ہوگا ،لہذا مذکور کیفیت میں دی گئ یہ تیسری طلاق بھی واقع ہوچکی ہے اور سابقہ دو طلاقوں کے ساتھ مل کر مجموعی طور پر زید کی بیوی پرتین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے بیوی اس پر حرمت غلیظہ کے ساتھ حرام ہوگئی اور اب بغیر حلالۂ شرعیہ ان کاآپس میں دوبارہ عقد نکاح نہیں ہوسکتا، دونوں پر لازم ہے کہ فی الفور ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ورنہ سخت گناہ گارہوں گے۔
کما فی ردالمحتار تحت قول الدر (و فی القاموس دھش): الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش الخ،(ج:3،ص: 244،مط: سعید)
و فی الھدایۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها" والأصل فيه قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} [البقرة: 230](ج:2،ص: 399،باب الرجعہ،مط: شرکت علمیہ)