السلام و علیکم :
میری بہن ثانیہ کا شوہر اس کو مارتا ہے ، نشے کرواتا ہے ، وہ دماغی مریض ہوگئی ہے اس کا ہم علاج کروا رہے ہیں اور وہ اب اپنے شوہر کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی، اس کی ایک بیٹی ہے ایک سال کی، ہم نے کورٹ میں کیس کیا ہے کہ وہ خلع دے ،وہ دینے پر راضی نہیں ہے ، اور ہمیں پتہ چلا ہے خلع دونوں کی رضا مندی پر ہوتی ہے ، ہم نے گھر بسانے کی کوشش کی ہے، اب وہ بھی ممکن نہیں۔ تو کیا ہمارے دین میں نکاح کھارج ہے ؟
صورت مسؤلہ میں سائلہ کا بیان اگر حقئقت پرمبنی ہو،اور اس میں کسی قسم کی خلاف حقیقت اور غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، تو ایسی صورت میں سائلہ کی بہن کے اپنے شوہر سے خلاصی کیلئے شریعت نے جو طریقہ مقرر کیا ہےاس پر عمل کرکے وہ اپنے ظالم شوہر سے خلاصی حاصل کرسکتی ہے۔
وہ طریقہ یہ ہے کہ سائلہ اپنا مقدمہ مسلمان حاکم (حج) کے سامنے پیش کرے اور جس کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہو وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعے پوری تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہو جائے تو اس کے خاوند سے کہا جاوے کہ اپنا گھر بسا کر بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو ، ورنہ ہم تفریق کر دیں گے، اس کے باوجود اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل کرنے کو تیار نہ ہو تو بغیر کسی انتظار و مہلت کے قاضی اس کا قائم مقام بن کر اس کی بیوی پر طلاق واقع کر دے، چنانچہ ایسا کرنے سے اس عورت پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی اور وہ عورت عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح بھی کر سکے گی، اور عدت کی ابتدا قاضی کے فیصلہ کے دن سے ہو گی۔ یاد رہے کہ عدالت میں جو مقدمہ دائر کیا جائے وہ شوہر کے تعنت کی بنیاد پر " تنسیخ نکاح “ کا مقدمہ دائر کیا جائے، خلع کا مقدمہ دائر نہ کیا جائے اور نہ ہی خلع کا طریقہ کار اختیار کیا جائے ، ورنہ فسخ نکاح معتبر نہ ہوگا۔
جبکہ عورت کے پاس اپنا دعوی ثابت کرنے کیلئے اگر گواہ بھی نہ ہوں تو ایسی صورت میں چونکہ شوہر سے قسم لی جاتی ہے، لیکن اگر وہ عدالت میں حاضر ہی نہ ہوتو شوہر کے پاس بار بار " تنسیخ نکاح کا نوٹس پہنچنے کے باوجود اس کا عدالت میں حاضر نہ ہونا حکما " نکول عن الیمین "شمارہو گا، اور اس کے خلاف قاضی کا فیصلہ شرعاً بھی معتبر ہو گا۔
کما فی الفقہ الاسلامی:رأي الفقهاء في التفريق للشقاق:لم يجز الحنفية والشافعية والحنابلة التفريق للشقاق أو للضرر مهما كان شديدا؛ لأن دفع الضرر عن الزوجة يمكن بغير الطلاق، عن طريق رفع الأمر إلى القاضي، والحكم على الرجل بالتأديب حتى يرجع عن الإضرار بها.وأجاز المالكية التفريق للشقاق أو للضرر، منعا للنزاع، وحتى لا تصبح الحياة الزوجية جحيما وبلاء، ولقوله عليه الصلاة والسلام: "لا ضرر ولا ضرار". وبناء عليه ترفع المرأة أمرها للقاضي، فإن أثبتت الضرر أو صحة دعواها، طلقها منه، وإن عجزت عن إثبات الضرر رفضت دعواها، فإن كررت الادعاء بعث القاضي حكمين: حكما من أهلها وحكما من أهل الزوج، لفعل الأصلح من جمع وصلح أو تفريق بعوض أو دونه، لقوله تعالى: {وإن خفتم شقاق بينهما، فابعثوا حكما من أهله وحكما من أهلها} [النساء:35/ 4](." القسم السادس، الباب الثانی،الفصل الثالث ،ج:9،ص:7060،ط:دار الفكر)