کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک خاتون کے شوہر نے ایک کاغذ پر جس پر یہ لکھا ہوا تھا، پہلے فریق نے دوسرے فریق کے مطالبے پر اسے قانونی طور پر طلاق دینے پر رضامندی ظاہر کی، اس کاغذ پر خاوند نے دستخط کردیے، 29 ستمبر کو ،اور دو گواہان نے بھی دستخط کر دیے تھے، اور پھر 30ستمبر کو پنچائیت کے سامنے منہ سے بول کر ایک دفعہ طلاق دی، اور اس کے بعد پھر 21اکتوبر کو ایک اور کاغذ تھا جس پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے، فلاں نے اپنے ہوش وحواس خمسہ برضا ورغبت بلا جبر واکراہ وغیرہ اپنی زوجہ مسماۃفلانیہ کو روبرو گواہان کے طلاق دے دی ہے، اور اس کو اپنے زوجیت سے آزاد کردیا ہے، اور وہ اپنی عدت پوری کر کے آگے جہاں مرضی شادی کرے، بعد میں میرا اس پر کسی قسم کا کوئی حق نہ ہوگا۔
یعنی شوہر نے دو طرح کے الگ الگ کاغذ پر دستخط کیے تھے، اور ایک دفعہ منہ سے بول کرطلاق دی تھی اس پر کونسی طلاق واقع ہوئی، شریعت کے روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے منسلکہ کاغذ پر دستخط کرنے سےکہ جس میں یہ لکھاہوا ہےکہ” پہلے فریق نے دوسرے فریق کے مطالبے پر اسے قانونی طور پر طلاق دینے پر رضامندی ظاہر کی“کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
جبکہ اس کے بعدسائلہ کے شوہرنے اسے پنچائیت کے سامنےایک طلاق زبانی دیدی تو اس سے سائلہ پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوچکی ہے، اور اس کے بعد دوسرےکاغذ کہ جس میں لکھا تھا ” فلاں نے اپنے ہوش وحواس خمسہ برضا ورغبت بلا جبر واکراہ وغیرہ اپنی زوجہ مسماۃ ۔۔۔۔۔کو روبرو گواہان کے طلاق دے دی ہے، اور اس کو اپنے زوجیت سے آزاد کردیا ہے“پر دستخط کرنے سے طلاق کے واقع ہونے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر سائلہ کے شوہر کا صریح طلاق کے بعد دوسرے جملے”اس کو اپنے زوجیت سے آزاد کیا ہے“ سے سابقہ صریح طلاق کی توضیح، تفسیر مقصود تھی اور شوہر نےیہ جملہ مزید طلاق دینے کی غرض سے نہ کہا ہو تو اس سے (دورانِ عدت ہونے کی بناء پر) دوسری طلاق رجعی بھی واقع ہو گئی ہے، اب اگر شوہر نے اس کے علاوہ کوئی طلاق نہ دی ہو اور وہ رجوع کرنا چاہے تو بلا تجدیدِ نکاح بھی رجوع کر سکتا ہے، لیکن اگر عدت گزر گئی تو پھر باہمی رضامندی سے تجدیدِ نکاح کرنا لازم ہوگا، بہر صورت آئندہ شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار رہ جائے گا، اگر غلطی سے کسی موقع پر مزید ایک طلاق بھی دیدی تو پہلی دو طلاقوں سے ملکر تین طلاقیں پوری ہوجائیگی، جس کے بعد حرمتِ مغلظہ ثابت ہونے کی وجہ سے بلا حلالۂ شرعیہ نکاح بھی منعقد نہیں ہوگا، اس لئے آئندہ طلاق کے سلسلہ میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔
کما في خلاصۃالفتاوی: لو قال لامرأته "أنت طالق"، ثم قال للناس "زن بر من حرام است" وعنی به الأول أو لا نیة له فقد جعل الرجعي بائنا، وإن عنی به الابتداء فهي طالق آخر بائن.(ج2، ص86)
وفی الھندیۃ : الکتابۃ علی نوعین مرسومۃ وغیر مرسومۃ وتعنی بالمرسومۃ ان یکون مصدراً ومعنوناً مثل مایکتب الی الغائب وغیر المرسومۃ ان لا یکون مصدرا ومعنوناً وھو علی وجھین مستبینۃ وغیر مستبینۃ فالمستبینۃ ما یکتب علی الصحیفۃ والحائط والارض علی وجہ یمکن فھمہ وقراءتہ (الی قولہ) وان کانت مستبینۃ لکنھا غیر مرسومۃ ان نوی الطلاق یقع والا فلا وان کانت مرسومۃ یقع الطلاق نوی او لم ینوی الخ (الفصل السادس فی الطلاق بالکتانۃ، ج1، ص378، ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا ایضآً: إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها الخ (فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج1، ص473، ط:ماجدیۃ)۔
وفیھا ایضاً: في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقاالخ (الفصل السابع في الطلاق بالألفاظ الفارسية، ج1، ص379،ط:ماجدیۃ)