مرد اپنی بیوی کو کہے کہ آپ کودیا اور آپ کو فارغ کردیا، کیا حکم ہے اس کا؟
سائل کا سوال واضح نہیں کہ شوہر نے کس حالت اور کیفیت میں مذکور الفاظ استعمال کئے ہیں، تاکہ اسی کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم مذاکرہ طلاق یا مطالبہ طلاق کے وقت عند القرینہ فارغ ہو کا لفظ استعمال کرنے کی وجہ سے بلا نیت بھی طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے، جس کے بعد شوہر کے پاس رجوع کا حق نہیں رہتا اور عدت کے مکمل ہونے کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو تی ہے، جبکہ دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے میاں بیوی کو تجدید نکاح کرنا لازم ہوتا ہے، بشرطیکہ اس سے قبل یا بعد میں کوئی طلاقیں نہ دی ہوں، لہذا سائل کو چاہیے کہ وہ واقعہ کی حقیقی صورتحال کی تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ ارسال کردیں، تواس پر غور و فکر کرکے ان شاء اللہ حکم شرعی سے بھی آگاہ کردیا جائے گا۔
كما في الدر المختار مع تنوير الابصار: (كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) - الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب، اه (باب الكنايات ،ج:٣،ص:٣١٤،مط :سعيد)
وفي الهندية: (الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة ،اه (الفصل الخامس في الكنايات ،ج:١،ص:٣٧٤،مط : ماجدية)
وفي البدائع الصنائع: وأما الطلاق بالفارسية فقد روي عن أبي حنيفة - رضي الله تعالى عنه - أنه قال في فارسي قال لامرأته: بهشتم إن زن، أو قال: إن زن بهشتم، أو قال: بهشتم لا يكون ذلك طلاقا إلا أن ينوي به الطلاق؛ لأن معنى هذا اللفظ بالعربية خليت، وقوله: خليت من كنايات الطلاق بالعربية، فكذا هذا اللفظ(كتاب الطلاق، فصل في النية في أحد نوعي الطلاق، اه(ج: ٣،ص:١٠٢،مط: سعيد)
وفي المبسوط للسرخسي: ولو قال أنت مني بائن أو بتة أو خلية أو برية فإن لم ينو الطلاق لا يقع الطلاق لأنه تكلم بكلام محتمل،اه (باب ما تقع به الفرقة مما يشبه الطلاق، ج:٣،ص: ٥٢،مط: سعيد)