میں گھر میں موبائل دیکھ رہا تھا،موبائل پر اچانک کچھ صوفیوں (چیچنوں) کی ویڈیوز آگئیں، جن میں وہ اچھل کود کر ذکر کر رہے تھے ، اس وقت میری بیوی ( مستورہ ) بھی میرے پاس بھیٹی ہوئی تھی ، چونکہ وہ دینی باتوں کو زیادہ نہیں جانتی، اس نے مجھ سے پوچھا یہ لوگ کون ہے؟ میں نے ان کے بارے میں بتایا ، پھر بات چلتے چلتے موضوع شیعہ لوگوں کی طرف چلا گیا، تو میں نے ان کے بارے میں بھی کچھ باتیں بتائی۔ میں نے بتایا کہ: شیعہ مذہب میں عارضی نکاح ( متعہ) کا ایک تصور پایا جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر بات کچھ اس طرح ہوئی ۔
1۔مثلا اگر میں تم سے نکاح کروں ، اپنی ضرورت پوری کروں اور پھر تمہیں طلاق دے کر چلا جاؤں ۔
2:یا یہ کہ اگر وہ لوگ تم سے نکاح کریں اور پھر طلاق دے کر چلے جائیں ۔
میری بیوی کے کہنے کے مطابق میں نے یہ کہا تھا ،وہ لوگ تم سے نکاح کرتے ہیں اور پھر طلاق دے کر چلے جاتے ہیں ،یا ممکن ہے میں نے یہ کہا ہو ، میں تم سے نکاح کرکے کہہ دوں کہ: میں نے تمہیں طلا ق دی اور چلا جاؤں ۔ مجھے سو فیصد یاد نہیں ، لیکن بات ان چار باتوں میں سے کسی ایک کے ارد گرد ہی ہوئی تھی ، اس کے بعد مجھے شک ہونے لگا اور میں خود سے پوچھنے لگا ،کیا میں نے واقعی کہا تھا ، میں نے تمہیں طلاق دی ؟کیا میں نے یہ جملہ ادا کیا تھا ؟ میں نے اس بارے میں معروف اساتذہ سے پوچھا ،کل چار اساتذہ سے ،سب نے یہی کہا کہ: طلاق واقع نہیں ہوئی، لیکن اس کے باوجود میرا دل مطمئن نہ ہوسکا ، چھ ماہ سے میں بار بار اپنی بیوی سے پوچھتا آرہا ہوں ، کیا میں نے تم سے کہا تھا کہ: میں نے تمہیں طلاق دی ہے ؟ مجھے سو فیصد یاد نہیں ، لیکن یہ خیال مجھے مسلسل پریشان کر رہا ہے کہ: اگر میں نے واقعی "تمہیں طلاق دی " کہا ہو اور اس دوران میری بات کاٹ دی گئی ہو یا بات ادھوری رہ گئی ہو یا وہ الفاظ نکل گئے ہو ں ،تو کیا ایسی صورت میں طلاق واقع ہوگئی ہوگی ؟ مثال کے طور پر جب سے یہ موضوع شروع ہوا ہے، میں بار بار بے چین ہو کر یہی سوچتا رہا ہوں ، کیا میں نے طلاق کا لفظ کہا تھا ؟ اسی تذبذب میں تقریبا 10 سے 20 مرتبہ میں نے یہ بات خود سے اور اپنی بیوی سے دہرا کو پوچھی ہے کہ: کہی طلاق واقع تو نہیں ہوگئی ؟ اسی وجہ سے آپ حضرات سے درخواست کر رہا ہوں کہ: براہ کرم میرے اس سوال کا جلد از جلد جواب دے دیں کیونکہ میں شدیدی ذہنی دباؤ اور پریشانی میں مبتلا ہوچکا ہوں ۔
واضح ہو کہ اپنی بیوی کے سامنے کسی کے طلاق کا واقعہ بیان کرتے ہوئے محض الفاظ طلاق کو دہرانے یا صرف بطور مثال سمجھانے کے لیے بیوی سے طلاق کے الفاظ کے مذا کرہ کرنے سے شرعا کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ،لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل نے اپنی بیوی کو نکاح متعہ کی تفصیل سمجھاتے ہوئے ،سوال میں مذکورہ جملوں میں سے کوئی بھی جملہ استعمال کیا ہو، تو اس سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،لہذا سائل کو چاہیئے کہ: ان وساوس کی طرف بالکل توجہ نہ دے ، تاکہ وہ مزیدشکوک وشبہات میں مبتلا نہ ہو ۔
كما في بحر الرائق: لو كرر مسائل الطلاق بحضرة زوجته ويقول أنت طالق ولا ينوي لا تطلق، وفي متعلم يكتب ناقلا من كتاب رجل قال ثم يقف ويكتب: امرأتي طالق وكلما كتب قرن الكتابة باللفظ بقصد الحكاية لا يقع عليه وما في القنية: امرأة كتبت أنت طالق ثم قالت لزوجها: اقرأ علي فقرأ لا تطلق اھ(باب الفاظ الطلاق، ج:٣،ص:٢٧٨،مط:داركتب الاسلامي)
وفی الشامیة: تحت(قوله وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس قال: يعني المغلوب في عقله اھ(باب المرتد ،ج:٤،ص:٢٢٤ ،مط سعيد)
وفي رد المحتار: لو كرر مسائل الطلاق بحضرتها، أو كتب ناقلا من كتاب امرأتي طالق مع التلفظ، أو حكى يمين غيره فإنه لا يقع أصلا ما لم يقصد زوجته، وعما لو لقنته لفظ الطلاق فتلفظ به غير عالم بمعناه فلا يقع أصلا على ما أفتى به مشايخ أوزجند صيانة عن التلبيس اھ(باب صريح الطلاق،ج:٣،ص:٣٥٠ مط: سعيد)
وفي الهندية: حكى يمين رجل فلما بلغ إلى ذكر الطلاق خطر بباله امرأته إن نوى عند ذكر الطلاق عدم الحكاية واستئناف الطلاق وكان موصولا بحيث يصلح للإيقاع على امرأته يقع لأنه أوقع وإن لم ينو شيئا لا يقع لأنه محمول على الحكاية كذا في الفتاوى الكبرى اھ (فصل فیمن یقع طلاقه ومن لا یقع،ج:١،ص:٣٥٣،مط:ماجدية)