السلام علیکم! میری شادی کو 9 برس ہو گئے لیکن شوہر خرچ نہیں دیتے تھے بلکہ الٹا میری کمائی پر ہی انحصار کرتے تھے۔ اولاد بھی نہیں تھی اور اُس کے حصول کے لئے مُجھے علاج کی کوئی مناسب سہولیات بھی میسر نہ تھیں۔ ان وجوہات کی بنا پر میں نے ان سے خلع لینے کا فیصلہ کیا اور اپنے وکیل سے رابطہ کیا۔ وکیل نے فون پر میرے شوہر سے رابطہ کیا اور اس مسئلہ کو کورٹ کے باہر حل کرنے کی نیّت سے میرے اور میرے شوہر کے درمیان طلاق مبارات کا طریقہ طے پایا۔ جس میں انہوں نے کُچھ اپنی اور کُچھ میری شرائط پر اس شادی کو ختم کرنے کی حامی بھر لی اور ایک سادہ کاغذ پر میرے وکیل اور بھائی کی موجودگی میں مُجھے طلاق مبارات دے دی۔ وضاحت دیتی چلوں کہ سادہ کاغذ پر کارروائی اس وجہ سے ہوئی کیوں کہ دفتری اوقات ختم ہو چکے تھے اور آنلائن ای سٹیمپ پیپر دستیاب نہیں تھا۔ میرے شوہر اس وعدے کے ساتھ وکیل کے دفتر سے رخصت ہوئے کہ کل آ کے وہ سٹیمپ پیپر پر بھی سائن کرکے دیں گے اور میرے مہر کی رقم جو انہوں نے وعدہ کیا تھا وہ بھی ادا کر دیں گے۔ لیکن اگلے دن وہ نہیں آئے۔ اور اب اس بات کو 4 ماہ ہو گئے ،میں عدت بھی پوری کر چکی ،لیکن اب وہ مکر گئے کہ میں نے طلاق دی ہی نہیں میں نے سائن جعلی کئے تھے اور یہ کہ مجھ سے رجوع کرو۔ جب کہ عدت کے تین ماہ کے دوران انہوں نے مجھ سے یا میری فیملی سے رابطہ کر کے ایک بار بھی یہ نہیں بتایا کہ میں نے طلاق نہیں دی۔ اب مُجھے عدالت سے سمن بھیج دیا ہے تاکہ یونین کونسل مُجھے طلاق کا سرٹیفکیٹ issue نہ کرے۔ میں سخت پریشان ہوں کہ میری شرعی حیثیت منکوحہ کی ہے يا مطلقہ کی۔ اگر طلاق مکمل نہیں ہوئی اور رجوع ممکن ہے تو اُسکا طریقہ بھی بتائیں۔ برائے مہربانی قرآن اور حدیث کی روشنی میں میری رہنمائی فرما کر میری آخرت برباد ہونے سے مُجھے بچائیں اللہ پاک آپ کو دونوں جہانوں میں جزا خیر نصیب فرمائے۔آمین
صورت مسؤلہ میں سائلہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ جس کاغذ پر شوہر نے دستخط کیے ہیں ، اس میں کن الفاظ کے ساتھ کتنی طلاقیں لکھی ہوئی تھیں ؟ تاکہ اسی کے مطابق جواب دیاجاتا، تاہم اگراس کاغذ میں واضح الفاظ (جیسے میں طلاق دیتاہوں وغیرہ) میں تین دفعہ طلاق کے الفاظ لکھے گئے ہوں ، پھر شوہر نے اپنے ہوش وحواس میں اس کاغذ پر دستخط کردیےہوں ، اگرچہ بعد میں وہ یہ کہے کہ میں نے سائن جعلی کیے تھے ، تب بھی شرعاً سائلہ پر کاغذ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیردوبارہ باہم عقدنکاح بھی نہیں ہوسکتاہے،جبکہ سائلہ ایام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
وفی رد المحتار: وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو. اھ (مطلب فی الطلاق بالکتابة،ج: 3، ص: 246، ط: دار الفکر)
وفی المصنف لابن أبي شیبة: عن حماد قال: إذا کتب الرجل إلی امرأته -إلی- أمابعد! فأنت طالق فهي طالق، وقال ابن شبرمة: هي طالق. اھ(کتاب الطلاق، باب في الرجل یکتب طلاق امرأته بیده، ج:9،ص:562،ط:علوم القرآن)
وفی الشامیۃ: ’’ولو أقر بالطلاق كاذباً أو هازلاً وقع قضاءً لا ديانةً‘‘. اھ(کتاب الطلاق ج : ۳،ص:۲۳۶، ،ط: سعید)