رخصتی سے پہلے اور خلوتِ صحیحہ کے بعد دی جانے والی تین الگ الگ طلاق سے نکاح ختم ہو جاتا ہے؟ خلوتِ صحیحہ میں دخول نہیں ہوا صرف رومنس ہوا ہے ،حق مہر نکاح کے وقت ادا کر دیا گیا تھا ۔ کیا اب دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے ؟
واضح ہو کہ اگر کوئی شحص نکاح کے بعد رخصتی سے قبل خلوت صحیحہ ہوجانے کے بعد اپنی منکوحہ کو زبانی یا تحریری طور پر واضح الفاظ جیسے " طلاق دیتا ہوں " کے ذریعے تین الگ الگ طلاقیں دیدے تو اس سے اس کی منکوحہ پر تین طلاق واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوجاتی ہے جس کے بعد نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر عقد نکاح ہوسکتا ہے ، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
کما قال اللہ تعالی: فإن طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاً غیرہ (الأیۃ : 230 ، سورۃ بقرۃ ، ) ۔
و في صحيح البخاري : عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك الخ ( باب شهادة المختبي، ج 2، ص 1243، رقم : 2639، ط : البشرى)۔
و فی بدائع الصنائع : وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله تعالی ( فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ) (کتاب الطلاق، فصل : حکم الطلاق البائن ، ج :3 ، ص :187، ط : سعید )
و فی الدر الختار : ( ویقع بھا ) ای بھذہ الالفاظ وما بمعناھا من الصریح الخ
و فی رد المحتار : تحت ( قولہ وما بمعناھا من الصریح ) ای مثل ما سیذکرہ من نحو : کونی طالقا و اطلقی و یا مطلقۃ بالتشدید ، و کذا المضارع اذا غلب فی الحال مثل اطلقک کما فی البحر اھ ( کتاب الطلاق ، باب الصریح ، ج : 3 ، ص : 248 ، ط : سعید )