میں نے اپنی بیوی کو ایک بار طلاق کہا اور وہ روٹھ کر میکے چلی گئی مجھے فتویٰ بنانا ہے، میں اس سے رجوع کرنا چاہتا ہوں۔
صورت مسئولہ میں اگر سائل نے اپنی بیوی کو صرف ایک صریح طلاق دی ہو مثلاً ان الفاظ میں کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں یا تجھے طلاق دے دی" اس کے علاوہ کسی دوسرے موقع پر کوئی طلاق نہ دی ہو، اور عدت (تین ماہواریاں یا بصورت حمل بچے کی پیدائش کی صورت میں) بھی نہ گزری ہو تو سائل کو حقِ رجوع حاصل ہے، بیوی چاہے راضی ہو یا نہ ہو، رجوع اس کی موجودگی میں ہو یا غیر موجودگی میں، لہذا سائل اگر رجوع کے الفاظ بول دے مثلاً "میں اپنی بیوی سے رجوع کرتا ہوں اور اسے اپنی بیوی بنا کے رکھتا ہوں" تو اس سے رجوع ہو جائے گا،(اور بہتر یہ ہے کہ رجوع کے یہ الفاظ گواہوں کی موجودگی میں کہہ دیں) چنانچہ رجوع کرنے سے بیوی حسبِ سابق اس کی منکوحہ ہی رہے گی، جس کے بعد وہ کسی اور شخص سے نکاح نہیں کر سکے گی۔ بصورت دیگر اگر عدت مکمل ہو جائے اور دورانِ عدت رجوع نہ ہوا ہو تو وہ ایک طلاقِ رجعی، طلاقِ بائن بن جائے گی، جس کے بعد نکاح ختم ہو کر بیوی آزاد ہوگی چنانچہ اس کے بعد اگر وہ چاہے تو سائل کے ساتھ دوبارہ نکاح کرے یا کسی بھی دوسرے شخص سے رشتۂ ازدواج قائم کرے۔
كما في الفتاوى الهندية: إذا طلق الرجل إمرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترضِ..الخ.(ج:1،ص:470، الباب السادس في الرجعة ،مكتبه ماجدية ).