محترم مفتی صاحب،
السلام علیکم،
ایک دن بیوی کے ساتھ لڑائی ہو رہی تھی۔ وہ میری ماں کی عزت اور احترام نہیں کر رہی تھی۔ اس پر میں نے اس سے کہا کہ وہ میری ماں ہی ہے۔ تو وہ کہنے لگی کہ پھر میں کیا لگتی ہوں؟ میں نے کہا کہ کچھ بھی نہیں۔ پھر وہ کہنے لگی کہ یہ کیا کہا؟ تو میں نے دوبارہ کہا کہ ہاں، کچھ بھی نہیں لگتی۔ اگر آپ کے ہاں میری ماں کی قدر اور عزت نہیں ہے تو میرے ہاں بھی آپ کی کوئی عزت اور قدر نہیں ہے۔
ان الفاظ کے ساتھ (حالانکہ بات عزت اور قدر کی ہو رہی تھی، اس وقت میرے ذہن میں طلاق کا کوئی خیال نہیں تھا اور میں نے بغیر سوچے یہ الفاظ کہہ دیے)، تو کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں؟
یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ اگر اس وقت ایسی کوئی سوچ نہ ہو، صرف بیوی کو ایسا لگے کہ میں طلاق دے رہا ہوں، لیکن میرا طلاق کا کوئی ارادہ نہ ہو، تو کیا پھر ان الفاظ سے طلاق واقع ہو سکتی ہے؟
براہِ کرم دونوں صورتوں میں جو جواب بنتا ہے وہ ارسال فرمائیں۔
صورت مسؤلہ میں سائل نے مذکور الفاظ "تم کچھ بھی نہیں لگتی " جب طلاق کی نیت سے نہیں بو لےتو اس سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہو ئی، لہذا پریشان ہو نے کی ضرورت نہیں ۔
وفي حشية ابن العابدين: ونقل في البحر عدم الوقوع، بلا أحبك لا أشتهيك لا رغبة لي فيك وإن نوى ،الخ(باب الکنایات ،ج:3 ،ص : 292ناشر :سعید )
وفي بحرالرائق :وفي الفقه هنا ما احتمل الطلاق وغيره (قوله: لا تطلق بها إلا بنية أو دلالة الحال) أي لا تطلق بالكنايات قضاء إلا بإحدى هذين لأنها غير موضوعة للطلاق بل موضوعة لما هو أعم منه ومن حكمه ،الخ( باب الکنایات فی الطلاق ،ج: 3 ص : 322 ناشر:دار الکتب الاسلامیہ)
وفیہ ایضاً :«إذا قال: لا حاجة لي فيك أو لا أريد أو لا أحبك أو لا أشتهيك أو لا رغبة لي فيك فإنه لا يقع،»الخ،( باب الکنایات فی طلاق ،ج: 3 ص: 327 ناشر : الثانیۃ)
وفي تبيين الحقائق: ولهذا قلنا في هذه الحالة لا يقع بما يقصد به الرد وهو القسم الثالث لاحتمال الرد لخطرانه بالبال وفي حالة الغضب لا يقع بكل لفظ يصلح للسب والرد وهو القسم الثاني والثالث؛ لأنه يحتمل الرد والشتم ولا ينافيه حالة الغضب ويقع بكل لفظ لا يصلح لهما بل يصلح للجواب فقط وهو القسم الأول ،الخ (اقسام الکنایات ،ج:2 ص:217 ،ناشر :مطعبۃ الکبری الامیریۃ)