میرا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔ میرا نکاح ہو چکا ہے، لیکن ابھی تک رخصتی اور خلوتِ صحیحہ نہیں ہوئی۔ ایک دن میں اپنی بیوی سے کسی بات پر ناراض ہوا اور اسے میسج کیا کہ: “You are completely free from me”۔
اس جملے سے میری مراد یہ تھی کہ: “جو کرنا ہے کر لو، میں تمہیں بالکل کچھ نہیں کہوں گا۔”اسی طرح کچھ دن بعد دوبارہ میسج کیا کہ: “تم مجھ سے آزاد ہو”۔ اس وقت میری نیت طلاق کی نہیں تھی، بلکہ مجھے بالکل معلوم نہیں تھا کہ اس قسم کے جملوں سے بھی طلاق واقع ہو سکتی ہے۔ کچھ دن بعد مجھے اس بات کا علم ہوا، جبکہ بیوی کو بھی اس کا علم نہیں ہے۔اب میرا سوال یہ ہے کہ نکاح برقرار ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ بیوی کے لیے آزاد کے الفاظ عرف میں طلاقِ صریح کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اس لیے ان سے بلا نیت بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل اور اس کی بیوی کے درمیان خلوتِ صحیحہ (یعنی ایسی تنہائی جس میں ہمبستری سے کوئی شرعی، طبعی یا حسی مانع موجود نہ ہو) واقع نہ ہوئی ہو، اور اس دوران سائل نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ میسج کیئے ہوں کہ “تم مجھ سے بالکل آزاد ہو” تو ایسی صورت میں سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو گئی ہے،اس کے بعد سائل نے دوسرے میسج میں جو الفاظ "تم مجھ سے آزاد ہو” ارسال کئے تھے وہ محل نہ ہو نے کی وجہ سے لغو ہو چکے تھے چنانچہ ایک طلاق بائن کے ذریعے سائل اور اس کی بیوی کے درمیاں کا نکاح ختم ہو چکا ہے،اور خلوتِ صحیحہ واقع نہ ہونے کی صورت میں عورت بلا عدت دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ،البتہ اگر دونوں دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو نئے حقِ مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ تجدیدِ نکاح کرنا ہوگا، تا ہم اس نکاح کے بعد سائل کو آئندہ کے لیے صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا، اس لیے طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط لازم ہے۔
وفی حاشیۃ ابن العابدین :بخلاف فارسية قوله سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اهـ وقد صرح البزازي أولا بأن: حلال الله علي حرام أو الفارسية لا يحتاج إلى نية، حيث قال: ولو قال حلال " أيزدبروي " أو حلال الله عليه حرام لا حاجة إلى النية، وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن لأنه المتعارف ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي. ،اھ( باب الکنایات ،ج؛3 ص: 299 ناشر : سعید)
وفيه ايضاً :بخلاف غير المدخولة لأنها بانت بالأول فلا يصدق في إرادته لها بالثاني كما لو كان طلق المدخولة بائنا أو رجعيا وانقضت عدتها، فلا تصح إرادتها بالأول ولا بالثاني كما يعلم مما نقلاه قريبا عن البزازية.بقي، ما إذا كانت إحداهما مدخولا بها فقط وهي في نكاحه، فإن أرادها بالطلاقين صح، وإن أراد غير المدخول بها لا يصدق في الثاني لأنها لم تبق امرأته، بل الثانية امرأته فيقع عليها الثاني كما هو ظاهر( مطلب الطلاق يقع بعدد قرن به ،ج؛3 ص : 292 ناشر سعید)
وفی در المختار : و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)على الاصح ،الخ( كتاب النكاح ، ص : 178ناشر: بیروت)