السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته! میرا نام۔۔۔۔ہے، اور میں اپنی دوست ا۔۔۔ کی طرف سے یہ ایمیل لکھ رہا ہوں، جو بیرونِ ملک رہتی ہیں۔ الحمدللہ، انہوں نے 21 دسمبر 2025 کو کلمہ پڑھ کر دل سے اسلام قبول کیا۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے بھی ان کا اللہ پر ایمان تھا اور وہ اسلام کو بہتر سمجھتی تھیں۔ وہ شادی شدہ ہیں اور ان کے چار بچے ہیں۔ تاہم، ان کا شوہر ملحد (Atheist) ہے اور رویہ بہت غیر مناسب رکھتا ہے، خاص طور پر اللہ اور اسلام کے بارے میں غلط باتیں کرتا ہے۔ ہم آپ کی رہنمائی چاہتے ہیں کہ:
1. چونکہ انہوں نے دل سے اسلام قبول کیا، کیا ان کی شادی اسلامی طور پر خودبخود ختم ہو گئی ہے؟
2. یا انہیں قانونی طور پر طلاق کروانی ہوگی، اور کیا اس کے لیے شوہر کے دستخط ضروری ہیں؟
3. اگر شوہر کسی بھی وجہ سے دستخط نہ کریں یا تاخیر کرے تو اس صورت میں کیا طریقہ کار ہوگا؟
4. اگر وہ دوبارہ شادی کرنا چاہیں تو کب اور کس طرح اسلام کے مطابق ممکن ہوگی؟
ہم آپ کے مفصل رہنمائی اور فتویٰ کے بہت شکر گزار ہوں گے۔
جزاکم اللہ خیراً آپ کے وقت اور مدد کے لیے۔
والسلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ
صورت مسئولہ میں سائل نے یہ نہیں لکھا کہ مذکور خاتون کا تعلق کس ملک سے ہے، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم تعلق اگر اسلامی ملک سے ہو تو سابقہ نکاح ختم ہونے کے لئے اس پر لازم ہے کہ وہ قاضی (جج) کے پاس اپنا دعوی دائر کرے اور قاضی اس کے دعویٰ کے مطابق شوہر پر اسلام پیش کرے ، اگر وہ اسلام قبول کر لیتا ہے تو ان کا نکاح بدستور قائم رہے گا اور دونوں میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں اور اگر وہ اسلام قبول نہیں کرتا تو قاضی ان کے درمیان تفریق کر دےگا، چنانچہ اس تفریق کے بعد جب عورت کی عدت (تين ماہوارى) مکمل ہو گی تو اس کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی، جبكہ خاتون كا تعلق اگر کسی غیر اسلامی ملک جہاں قاضی کے پاس جاکر شوہر پر اسلام پیش کرانے کی کوئی صورت نہ ہو تو ایسی صورت میں اس کا نکاح ختم ہونے کے لیے تین حیض گزارنا لازم ہے، اس کے بعد عورت عدت (مزید تین حیض) مکمل کر کے دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
كما في الهداية: وإذا أسلمت المرأة وزوجها كافر عرض القاضي عليه الإسلام فإن أسلم فهي امرأته وإن أبى فرق بينهما وكان ذلك طلاقا عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله (إلى قوله) وإذا أسلمت المرأة في دار الحرب وزوجها كافر أو أسلم الحربي وتحته مجوسية لم تقع الفرقة عليها حتى تحيض ثلاث حيض ثم تبين من زوجها [كتاب النكاح، باب نكاح أهل الشرك، ج:1 ص:213 ط: دار إحياء التراث العربي]
وفي الفتاوى الهندية: ولو أسلم أحد الزوجين عرض الإسلام على الآخر فإن أسلم وإلا فرق بينهما كذا في الكنز. وإن سكت ولم يقل شيئا فالقاضي يعرض الإسلام عليه مرة بعد أخرى حتى يتم الثلاث احتياطا كذا في الذخيرة. ثم لا فرق بين أن يكون المصر صبيا مميزا أو بالغا حتى يفرق بينهما بإبائه وهذا على قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى (إلى قوله) وإن أسلمت المرأة وأبى الزوج وفرق تكون الفرقة طلاقا عند أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - كذا في محيط السرخسي. ثم إذا وقعت الفرقة بينهما بالإباء فإن كان بعد الدخول فلها المهر كله وإن كان قبل الدخول فإن كان بإبائه فلها نصف المهر وإن كان بإبائها فلا مهر لها كذا في التبيين (إلى قوله) وإذا أسلم أحد الزوجين في دار الحرب ولم يكونا من أهل الكتاب أو كانا والمرأة هي التي أسلمت فإنه يتوقف انقطاع النكاح بينهما على مضي ثلاث حيض سواء دخل بها أو لم يدخل بها كذا في الكافي فإن أسلم الآخر قبل ذلك فالنكاح باق ولو كانا مستأمنين فالبينونة إما بعرض الإسلام على الآخر أو بانقضاء ثلاث حيض كذا في العتابية. وهذه الحيض لا تكون عدة ولهذا يستوي فيها المدخول بها وغير المدخول بها ثم إذا وقعت الفرقة قبل الدخول بذلك فلا عدة عليها وإن كان بعد الدخول والمرأة حربية فكذلك، وإن كانت هي المسلمة فكذلك الجواب عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في الكافي. [كتاب النكاح، الباب العاشر في نكاح الكفار، ج:1 ص:338 ط: رشيدية]