ایک شخص کا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے اپنی اہلیہ سے بات کرتے ہوئے کچھ کنایہ الفاظ کہے (مثلاً: 'اپنے گھر چلی جاؤ')۔ یہ الفاظ بولتے وقت اس نے جان بوجھ کر (Deliberately) اپنے دماغ میں یہ سوچا کہ 'میری نیت ہے'۔ لیکن حقیقت (Asal) میں اس کے دل میں طلاق دینے کا کوئی پختہ ارادہ نہیں تھا اور نہ ہی وہ رشتہ ختم کرنا چاہتا تھا، بلکہ اس نے محض ایک ذہنی کیفیت یا وسوسے کے طور پر خود سے یہ کہا کہ 'میری نیت ہے'۔
براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس طرح جان بوجھ کر دماغ میں 'نیت ہے' سوچنے سے (جبکہ اصل میں طلاق کا حقیقی ارادہ نہ ہو) کنایہ الفاظ کے ذریعے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ یا نکاح برقرار رہتا ہے
صورت مسؤلہ میں مذکور شخص بیوی کو یہ الفاظ کہنے سے قبل اپنے دل میں طلاق کی نیت لے آیا ہو ،اور اس نیت کے نتیجہ میں اس نے بیوی سے یہ الفاظ کہے ہوں تو اس سے کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر میاں بیوی کا نکاح ختم ہو چکاہے جس کے بعد باہمی رضامندی سے اگر میاں بیوی ساتھ رہنا چاہیں تو نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ گواہاں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب وقبول کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں ورنہ ایام عدت گذرنے کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی۔
وفي المبسوط للسرخسي قال: ولو قال لامرأته: اذهبي فتزوجي، فإن كان نوى طلاقا فهو طلاق، وإن نوى ثلاثا فثلاث، وإن نوى واحدة فواحدة بائنة، وإن لم يكن له نية فليس بشيء؛ لأن كلامه محتمل فلا يتعين معنى الطلاق فيه إلا بالنية، وهو محتمل للطلاق؛ لأنه ألزمها الذهاب من بيته،(ج:٦ باب طلاق الاخرس ص: ١٤٣ ناشر : مطبعة سعادة)
وفي البحر الرائق قوله: (اخرجي اذهبي قومي) لحاجة أو لأني طلقتك قيد باقتصاره على اذهبي لأنه لو قال: اذهبي فبيعي ثوبك لا يقع، وإن نوى، ولو قال: اذهبي إلى جهنم يقع إن نوى كذا في الخلاصة، ولو قال: اذهبي فتزوجي وقال: لم أنو الطلاق لم يقع شيء لأن معناه تزوجي إن أمكنك وحل لك كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان، وفي القنية اذهبي وتحللي إقرار الثلاث، وفي المعراج تنحي عني يقع إذا نوى، وفي البزازية اذهبي وتزوجي تقع واحدة ولا حاجة إلى النية لأن تزوجي قرينة فإن نوى الثلاث فثلاث اهـ(ج: ٣ ص :٣٢٦ باب الكنايات في الطلاق ناشر: الثانية).