میری بیگم اور میں رات کو بات کر رہے تھے کافی ٹائم ہو چکا تھا نیند کی حالت میں تھے میں تھوڑا غصہ بھی تھا تو بیگم کو میں نے غصے میں بولا تم مجھے چھوڑ دو یار اگر تمہیں مسئلہ ہے ،تو بیگم نے آگے سے مجھے بولا آپ چھوڑ دو مجھےمیں نے کہا صحیح ہے بھائی چھوڑ دیتا ہوں صحیح ہے چھوڑ دیا میں نے ،اب مجھے یاد نہیں ہے میں نے تین یا چار یا دو بار بولا میرا خیال ہے میں نے دو بار بولا ہے مجھے جہاں تک لگتا ہے ،اور میری بیوی اور میں ایک دوسرے سے اتنا پیار کرتے ہیں ،ہماری بالکل بھی نیت نہیں ہے اس چیز کی نہ ہم کبھی سوچ سکتے ہیں یہ تو ہمیں ایک ویڈیو ہم نے دیکھی تو ہمارا ایک شک اس کے اوپر ہو گیا کہ ان الفاظوں سے بھی زندگی پر اثر پڑ سکتا ہے تو آپ پلیز ہماری رہنمائی فرمائیں ہمارا بالکل ارادہ ایسا نہیں ہے ہم اپنےاللہ کو حاضر ناظر جانتے ہیں ہم بھی میاں بیوی دونوں کی نیت بالکل ا س طرف نہیں ہے آپ اس کا ہمیں کچھ حل بتائیں ۔
واضح رہے کہ بیوی کیلئے "چھوڑنے"کا لفظ استعمال کرنا اردو زبان میں طلاق صریح کے حکم میں ہے جس کےلئے نیت کا ہونا وقوع طلاق کے لئے شرعاً ضروری نہیں ،اس لئے سائل کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ اس نے یہ لفظ کتنی باربولا ہے،غالب گمان واندازے کے مطابق جتنی دفعہ بولا ہوگا اتنی طلاقیں واقع ہونگی، لہذا سائل کو اگر مذکور الفاظ دو دفعہ کہنے کا غالب گمان ہو تو ایسی صورت میں سائل کی بیوی پر دو رجعی طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ، جس کے بعد دوران عدت سائل کو رجوع کرنے کا اختیار تھا،چنانچہ اگر سائل نے دوران عدت قولاً یا عملاًرجوع کیا ہو تو دونوں میاں بیوی کا نکاح حسب سابق برقرار ہے، تاھم آئندہ کیلئے سائل کو فقط ایک طلاق کا اختیار ہوگا اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا لازم ہے۔
کما فی رد المحتار: فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي(ج:3،ص:299،مط:ایچ ایم سعید)
وفيه أيضا: ولو شك أ طلق واحدة أو أكثر بنى على الأقل. (ج: 3، ص: 283)
وفی الھندیۃ: ولو قال في حال مذاكرة الطلاق باينتك أو أبنتك أو أبنت منك أو لا سلطان لي عليك أو سرحتك أو وهبتك لنفسك أو خليت سبيلك أو أنت سائبة أو أنت حرة أو أنت أعلم بشأنك. فقالت: اخترت نفسي. يقع الطلاق وإن قال لم أنو الطلاق لا يصدق قضاء(ج:1،ص:375)