میری شادی کو دو سال ہو گئے ہیں، میرے شوہر کی عمر 37 سال ہے اور میری عمر 23 سال ہے، پہلے سب ٹھیک تھا، لیکن پچھلے آٹھ مہینوں سے مجھے میرے شوہر بالکل اچھے نہیں لگ رہے، اب تو یہ حال ہے کہ میرا دل ہی نہیں کرتا کہ وہ میرے پاس آئیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مجھے مطمئن نہیں کر پاتے اور خود مطمئن ہو جاتے ہیں، اور اولاد کا مسئلہ میری طرف سے نہیں ہے، بس اللہ کا حکم نہیں ہے، بس بات یہ ہے کہ میں طلاق لینا چاہتی ہوں اور وہ طلاق نہیں دیتے۔
صورت مسئولہ میں بیوی کے لیے فوری طلاق کا مطالبہ مناسب نہیں، بلکہ اسے چاہیے کہ شوہر کو علاج کروانے کا موقع دے، پھر اگر علاج سے بھی مسئلہ حل نہ ہو اور بیوی کے جنسی خواہش کی تکمیل اور آسودگی حاصل نہ ہونے کی صورت میں گناہ میں مبتلا ہونے کا قوى اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں بیوی کے لیے طلاق کا مطالبہ کرنے کی گنجائش ہوگی، اور اگر شوہر طلاق دینے پر راضی نہ ہو تو اسے مہر کے بدلے میں خلع پر بھی راضی کیا جا سکتا ہے۔
كما في القرآن الكريم: ﴿فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيمَا ٱفۡتَدَتۡ بِهِ﴾ [البقرة: 229]
وفي الدر المختار: (فلو جب بعد وصوله إليها) مرة (أو صار عنينا بعده) أي الوصول (لا) يفرق لحصول حقها بالوطء مرة.
وفي رد المحتار تحت قوله: (لحصول حقها بالوطء مرة) وما زاد عليها فهو مستحق ديانة لا قضاء بحر عن جامع قاضي خان، ويأثم إذا ترك الديانة متعنتا مع القدرة على الوطء ط. [باب العنين، ط سعيد، (3/ 495)]
وفي بدائع الصنائع: وللزوجة أن تطالب زوجها بالوطء؛ لأن حله لها حقها كما أن حلها له حقه، وإذا طالبته يجب على الزوج، ويجبر عليه في الحكم مرة واحدة والزيادة على ذلك تجب فيما بينه، وبين الله تعالى من باب حسن المعاشرة واستدامة النكاح، فلا يجب عليه في الحكم عند بعض أصحابنا، وعند بعضهم يجب عليه في الحكم. [(2/ 331)]