میں گزشتہ چار سال سے دبئی میں رہ رہی ہوں۔ میرا نکاح 2021 میں شرعی طریقے سے ہوا تھا، شروع کے چند ماہ تک میاں بیوی کا جسمانی تعلق قائم رہا، پھر میں ملازمت کے لیے دبئی آگئی اور یہیں مقیم ہو گئی۔ میرے شوہر نے نکاح کے بعد میری کوئی مالی یا گھریلو ذمہ داری پوری نہیں کی۔ کافی عرصے بعد میں نے اپنے شوہر سے فون پر بات کی اور کہا کہ جب آپ میرے ساتھ بچہ نہیں چاہتے، اور صرف بچے کے لیے آپ نے دوسری شادی کی تھی، پھر پہلی بیوی سے آپ کے بچے بھی ہو گئے ہیں اور اب آپ میرے ساتھ بھی بچہ نہیں چاہتے تو مجھے چھوڑ دیں، صرف نام کا رشتہ رکھنے کا کیا فائدہ ہے۔ اس بات پر میرے شوہر نے فون پر ہی مجھے دو مرتبہ طلاق دی۔ پھر کچھ دن بعد دوبارہ فون پر بات ہوئی تو انہوں نے ایک بار پھر کہا”طلاق دی“۔ تقریباً پانچ دن بعد میں پاکستان گئی اور ہمارے درمیان دوبارہ جسمانی تعلق قائم ہوا۔ اب ہمیں یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ نکاح برقرار ہے یا ختم ہو چکا ہے؟ جبکہ ہم دونوں یہ رشتہ بچانا چاہتے ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ کے شوہر نے سائلہ کو فون پر واضح الفاظ ”جیسے تجھے طلاق ہے،یا طلاق دیتا ہوں“کے ذریعے دو طلاقیں دیدی ہوں، تو اس سے سائلہ پر دو طلاق رجعی واقع ہو چکی تھی،جس کے بعد شوہر کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار باقی تھا چنانچہ جب شوہر نے کچھ دن بعد اگر عدت کے دوران دوبارہ فون پر مذکور الفاظ ”طلاق دی “کے ذریعہ تیسری طلاق بھی دیدی، تو اس سے سائلہ پر مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا، لہٰذا تین طلاقوں کے بعد دونوں کا ازدواجی حیثیت سے ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ حرام ہے ، جس کی وجہ سے وہ سخت گنا ہ گار ہو رہےہیں اس لئے دونوں پر لازم ہے، کہ ایک دوسرے سے فوراً علیحدگی اختیار کریں ، اور میاں بیوی والا تعلق ہرگز قائم نہ کریں ،ورنہ دونوں حرامکاری کے مرتکب ہونگے، جبکہ سائلہ ایا م عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی التنزیل :ٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ (الیٰ قولہ)فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ( ایٰت:230،229، سورۃ:البقرہ)
وفی صحیح البخاری: وقال الليث، عن نافع: كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: لو طلقت مرة أو مرتين! فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا، حرمت حتى تنكح زوجا غيرہ۔(کتاب الطلاق،رقم:5256)
وفی الھدایۃ: "الطلاق على ضربين صريح وكناية فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي اھ(کتاب الطلاق،ج:1، ص:225، ناشر:بیروت)