"میرے شوہر نے تین الگ الگ مواقع پر طلاق دی ، ایک مرتبہ جولائی میں، ایک مرتبہ اگست میں، اور ایک مرتبہ ستمبر میں۔ ان طلاقوں کے درمیان کوئی رجوع (واپسی یا صلح) نہیں ہوا، اب کیا میری عدت انہی تین مہینوں کے اندر پوری ہو چکی ہے، یا ستمبر میں دی گئی آخری طلاق سے نئی عدت شروع ہوگی؟
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے جولائی میں طلاق دینے کے بعد اگر رجوع نہ کیا ہو ، تواس کے بعد سے تین حیض گزرنے پر سائلہ کی عدت مکمل شمار ہوگی ، اگست اور ستمبر میں دی گئی دو طلاقوں کو بنیاد بنا کرسائلہ پر ستمبر سے نئے سرے سے عدت گزارنا لازم نہیں ۔
قال اللہ تعالیٰ: والمطلقات یتربصن بأنفسہن ثلاثة قروء (سورة البقرة، پ:۲)
و فی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛الخ (فصل وأما حکم البائن،ج:3،ص: 187،ط:سعید)
وفي الفتاوى الهندية : (والبدعي) من حيث الوقت أن يطلق المدخول بها وهي من ذوات الأقراء في حالة الحيض أو في طهر جامعها فيه وكان الطلاق واقعا الخ (كتاب الطلاق، الطلاق البدعي، ج 1، ص 349، ط : دار الفكر، بيروت)