میری شادی کو دو سال کا عرصہ ہو چکا ہے دو سالوں سے میں اپنی زوجہ سے اس کے از دوا جی تعلق سے ناخوش تھا، جس کی وجہ سے ہماری اکثر ناراضگی رہتی تھی اس وقت میری زوجہ چار ماہ سے حاملہ ہے ،مورخہ 14 دسمبر 2025 کی رات 11 بجے جب میں نے اپنی زوجہ سے ازدواجی تعلق بنانے کی کوشش کی تو میری زوجہ کے مسلسل انکار کی وجہ سے میں نے ایک سانس میں تین بار طلاق دی جس کے الفاظ تھے (تم مجھ پر طلاق ہو) تین بار یہی الفاظ کہے میں نے صبح مسجد کے امام صاحب سے مسئلہ بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ اپ کی طلاق واقع ہو چکی ہے جس پر میں نے اہل حدیث مسلک سے فتوی لیا جس میں اب بھی گنجائش باقی ہے، میری زوجہ اپنے میکے میں ہے اور اس کے گھر والے اس فتوی کو قبول نہیں کر رہے آپ جناب درخواست کہ اگر کوئی گنجائش قران و حدیث سے ثابت ہے تو رہنمائی فرمائیں۔
قران و سنت کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاقیں خوا ہ ایک جملہ سے دی ہوں جیسے تجھے تین طلاق ہیں یا الگ الگ جملوں سے دی ہوں جیسے تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے ،تجھے طلاق ہے، ان دونوں صورتوں میں تین طلاقیں شمار ہونگی اور تینوں ہی واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو جائے گی جس کے بعد نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقد نکاح ہو سکتا ہے ۔حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین عظام رحمہم اللہ تعالی کا اس پر اتفاق ہے اور امت کے چاروں اماموں یعنی حضرت امام اعظم ابو حنیفہ امام مالک امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک طلاق رجعی کے حکم میں ہرگز نہیں ۔لہذا سائل کا فقہ حنفی کا پیروکارہوتےہوئے تین طلاق کےمسئلے میں غیر مقلدوں کے پاس جانا اور اس میں اپنے لیے گنجائش نکالنے کی کوشش کرنادینی احکام کو اپنے خواہشات اور مرضی کے مطابق استعمال کرنےکی کوشش ہے جو شرعاًبھی جائز نہیں جس سے اجتناب لازم اور ضروری ہے ۔چنانچہ سائل نے جب اپنی بیوی کو یہ جملہ” تم مجھ پر طلاق ہو “تین بار کہہ دیااگرچہ وہ حمل سے ہی کیوں نہ ہو تب بھی اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا جبکہ عورت ایام عدت (جو کہ صورت مسئولہ میں وضع حمل ہے )گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
کما فی تنزیل فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُ ۥۗ ، الآیۃ (البقرۃ:230)
وفی صحیح البخاری: عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: "لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول"(ر:2496)
وفی الدرالمختار: وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.(ج:3،ص:233،مط: سعید)
وفی الھندیۃ: متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق۔(ج:1،ص:156،مط:ماجدیہ)