طلاق

خاوند طلاق دینے کے بعد انکاری ہوجائے تو بیوی کے لئے کیا حکم ہے؟

فتوی نمبر :
90768
| تاریخ :
2026-01-10
معاملات / احکام طلاق / طلاق

خاوند طلاق دینے کے بعد انکاری ہوجائے تو بیوی کے لئے کیا حکم ہے؟

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میرا نکاح 2008 میں ہو گیا تھا۔ اس نکاح سے چھ بچے ہیں، ہمارے در میان طلاق کے الفاظ بولے گئے ہیں ،جس میں میاں بیوی کا اختلاف ہے۔
بیوی کا حلفیہ بیان
میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہی ہو ں کہ میں جو کچھ کہو نگی سچ کہونگی .اگر میں نے اپنے بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا(۱). ایک موقع پر شوہر نے مجھے کہا کہ اگر تم نے اپنے بھائی پر نظر ڈالی تو تم مجھ پر تین پتھر طلاق ہوگی ” کہ تہ پہ خپل رور باندے نظر او لگو و نو پہ ما درے کانٹری طلاقہ یئے “اسی وقت میرا بھائی میرے گھر میں داخل ہوا اور میں نے بھائی سے بات بھی کی ۔(۲). دوسرے موقع پر میرے شوہر نے مجھے کہا کہ ” اگر تم بھائی کے گھر گئی تو تم مجھ پر تین پتھر طلاق ہوگی“ اس تعلیق کے کچھ عرصہ بعد میں بھائی کے گھر گئی تھی ۔
(۳).میں اسٹامپ پیپر لاتا ہوں اوراس پھر تجھے تین طلاق دیتا ہو ں .دس افراد کو جمع کرو.”لس کسہ راوغواڑہ پہ اسٹامپیپر درلہ دری طلاقہ درکوم“ ۔
شوہر کا حلفیہ بیان
میں اللہ کو حاضر ناظرجان کریہ حلفیہ بیان دے رہا ہو ں کہ میں جو کچھ کہوں گا سچ کہوں گا.اگر میں نے اپنے بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا،میری بیوی نے جو بیان دیا .یہ بالکل غلط بیانی ہے ،میں نے صرف ایک مرتبہ لڑائی جھگڑے کے دوران کہا تھا کہ اگر تم ابھی بھائی کے گھر گئی ، تو تم مچھ پر طلاق ہوگی ،اوریہ اس وقت گھر نہیں گئی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مفتی غیب نہیں جانتا وہ سوال کے مطابق اُصولی جواب دینے کا پابند ہوتا ہے،اور سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سائل پر عائد ہوتی ہے۔ اس تمہید کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں عورت اپنے خاوند پر اُسے دو مختلف موقعوں پر تین معلق طلاق دینے اور اس کے بعد شرط پائے جانے کی وجہ سے اس کے واقع ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے ،اور اس کے پاس موقع کا کوئی گواہ بھی نہیں ،البتہ عورت اپنے اس بیان پر حلف اُٹھا تی ہے،جبکہ شوہر اس کو تین طلاق دینے سے انکار کر رہا ہے، اور جب ایسی صورت حال ہو جائے کہ عورت اپنے کانوں سے تین طلاق سننے کا دعویٰ کرے اور واقع ہونا بیان کر ے ،اور اُسے بخوبی یاد بھی ہو، اور اس کا یہ بیان واقعۃً درست بھی ہو کہ اس کے خاوند نے اُسے تین طلاقیں دیدی ہیں،مگر اس کے پاس موقع کا کوئی گواہ نہ ہو اور شوہر بھی منکر ہو ۔ البتہ عورت اپنے بیان پر حلف اٹھا سکتی ہو، اور آخرت کی جواب دہی کے لئے بھی تیار ہو۔ تو ’’المرأة کالقاضی‘‘ کے اصول کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اُسے چاہیئے کہ وہ اپنے آپ کو مطلّقہ ثلاثہ سمجھے اور شوہر کو ہر گز اپنے اوپر قدرت نہ دے ۔ البتہ اگر یہ معاملہ قاضی (جج) کی عدالت میں چلا جائے اور عورت اپنے دعوی پر گواہ پیش نہ کر سکے اور قاضی مدعی علیہ (منکر) یعنی خاوند کی قسم پر بیوی کے خلاف اور شوہر کے حق میں عدمِ طلاق کا فیصلہ دے کر اُسے خاوند کے ساتھ بھیج دے۔تو اُس صورت میں وہ اگر چہ گنہگار نہ ہوگی، لیکن جب اُسے تین طلاقیں اپنے کانوں سے سننا واقعۃً یاد ہو تو حتی الامکان اُسے حلالۂ شرعیہ سے قبل اپنے اوپر قدرت نہ دے بلکہ اس سے طلاق بالمال یا خلع کے ذریعے علیحدگی حاصل کرلے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی ردالمحتار: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله (کتاب الطلاق ،ج 3، ص251، ط : سعید)
وفی البحرالرائق: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه اهـ. ولا فرق في البائن بين الواحدة، والثلاث اهـ.(ج3،ص277،ط: دار الكتاب الإسلامي)
وفی الدرالمختار: (سمعت من زوجها أنه طلقها ولا تقدر على منعه من نفسها) إلا بقتله (لها قتله) بدواء خوف القصاص، ولا تقتل نفسها. وقال الأوزجندي: ترفع الأمر للقاضي، فإن حلف و لا بينة فالإثم عليه اھ (کتاب الطلاق ج: 3 ، ص: 420، ط : سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90768کی تصدیق کریں
0     225
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • گھر والوں کی دباؤ میں آکر طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
Related Topics متعلقه موضوعات