میرا شوہر نیند، ڈپریشن اور اینگزائٹی کی گولیاں کھاتا ہے۔ کبھی 5، کبھی 10 اور کبھی 20 گولیاں تک بھی کھا لیتا ہے۔ عام حالات میں وہ نارمل رہتا ہے، لیکن ڈپریشن، اینگزائٹی اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے جب اسے غصہ آتا ہے تو اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ پاتا۔ وہ جنونی اور پاگل پن جیسی کیفیت میں چلا جاتا ہے، گالیاں دیتا ہے، کبھی میرے ماں باپ کو گالیاں نکالتا ہے، کبھی گھر کے گیٹ پر آ کر ہنگامہ کرتا ہے اور غصے یا جنون کی کیفیت میں پیسے کا بھی بڑا نقصان کر دیتا ہے۔ بعد میں ہمیشہ پچھتاتا ہے کہ مجھے یہ سب نہیں کرنا چاہئیے تھا۔ اگرچہ بظاہر اس وقت اس کی دواؤں کا اثر نظر نہیں آتا، لیکن بطور بیوی میں جانتی ہوں کہ وہ ان حالات میں نارمل نہیں ہوتا۔ شدید غصے اور جنونی کیفیت میں وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں رہتا اور اپنے آپ سے باہر ہو جاتا ہے۔ دو طلاقیں وہ مجھے پچھلے آٹھ سال کے دوران پہلے ہی دے چکا تھا۔ اب میں تقریباً چار سال سے اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھی ہوں۔ اور ایک دن شدید غصے اور جنونی حالت میں اس نے مجھے طلاق لکھ کر واٹس ایپ پر بھیج دی۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسی حالت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ یا شدید غصے اور پاگل پن/جنون کی کیفیت میں دی گئی طلاق نہیں ہوتی؟
سائلہ کے بیان کے مطابق اگر چہ ان کے شوہر غصہ کی کیفیت میں خود پر قابو نہیں رکھ پاتے، تاہم بقول سائلہ بظاہر ان پر دواؤں کا اثر نظر نہیں آتا، چنانچہ اس صورتحال میں ان کے اقوال و افعال معتبر مانے جائیں گے۔لہذاصورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے اپنے الفاظ کا مفہوم سمجھتے ہوئےپچھلے آٹھ سالوں میں اگر دو طلاقیں دے کر واپس رجوع کرلیا تھا ،تو سائلہ پر دو طلاقیں واقع ہوگئی تھی ،اور اس وقت سائلہ کے شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار تھا ،پھر اگر تیسری بار سائلہ کے شوہر نے واٹس ایپ پر طلاق لکھ کر سائلہ کو بھیج دی ،تو اس سے سائلہ پر تیسری طلاق بھی واقع ہو کر سائلہ اپنے شوہر پر حرمتِ مغلَّظہ کیساتھ حرام ہوگئی، چنانچہ اب رجوع نہیں ہو سکتا ، اور نہ حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے،جبکہ عدت گذرنے کے بعد سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
کما جاء فی التنزیل العزیز: فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُ(البقرۃ،ایۃ نمبر 30)
وفی الھدایۃ: ويقع طلاق كل زوج إذا كان عاقلا بالغا(کتاب الطلاق، ج:1،ص:224،دار احیاء التراث العربی)
و فی الشامیۃ: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة ط(مطلب فی الطلاق بالکتابۃ،ج:3، ص:224،ط :سعید)