کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسماۃ غ بنت غ کا نکاح مسمی ر ولدب کے ساتھ تقریبا پینتیس سال قبل ہوگیا تھا اس نکاح سے ہمارے آٹھ بچے بھی ہے ہم دونوں میاں بیوی کے درمیان طلاق کے الفاظ بولے گئے ہیں جس میں اختلاف ہے ،بیوی مسماۃ غ بنت غ کا حلفیہ بیان : میں غ اللہ کو حاضر ناضر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہی ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گی سچ کہوں گی اگر میں نے بیان میں جھوٹ اور غکط بیانی سے کام لیا تو اس کا عذاب و وبال مجھ پر ہوگا آج سے تقریبا سولہ سال قبل لڑائی جھگڑے کے دوران شوہر نے مجھے مارا اور تین مرتبہ یہ الفاظ بولے "تہ پہ ما طلا قہ ئے " (تم مجھ پر طلاق ہو)اور اس وقت میرے شوہر نے کہا کہ میں نے صرف دو مرتبہ کہا ہے تین مرتبہ نہیں کہا ، تو میں نے اپنے بہنوئی سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو دو مرتبہ طلاق دے تو کیا کرے ، تو اس نے کہا کہ دو تو ہوگئی ہے تیسرے کا خیال رکھے پھر ہم میاں بیوی کی طرح رہتے رہیں اس کے بعد دوسری مرتبہ میں اپنی بہن کے گھر پر تھی وہاں لڑائی ہوئی اور اس نے پھر مجھے ایک مرتبہ کہا "تہ پہ ما طلاقہ ئے"اس بات کو تقریبا تین مہینے ہوگئے ۔شوہر مسمی ر ولد ب کا حلفیہ بیان : میں ر اللہ کو حاضر ناضر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہا ہوں کہ میں جو کچھ کہونگا سچ کہوں گا اگر میں نے بیان میں جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا کہ آج سے سولہ سال قبل جو بات بیان کی ہے ، اس وقت میری بیوی پڑوسن کے گھر سے آئی اس وقت ہماری لڑائی ہوئی تو میں نے اس کو کہا کہ اگر آئندہ تم میرے اجازت کے بغیر گئی تو میں تمہیں طلاق دے دونگا کے الفاظ ایک ہی مرتبہ بولے تھے اور اب جو تین مہینے پہلے کی بات ہے اس میں ایک مرتبہ یہ الفاظ بولے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوگئیں ہیں اور اب آئندہ ہمارے لیے کیا حکم ہے ۔
مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، اس لئے سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ سائلہ کا شوہر بھی چونکہ ایک دفعہ "طلاق"کے ان الفاظ "میں تمہیں طلاق دیتا ہو ں" کہنے کا اقرار اور اعتراف کررہا ہے، اس لئے سائلہ پر ایک طلاق تو بہرحال واقع ہوچکی ہے، البتہ سائلہ ایک طلاق کے علاوہ مزید دو طلاقوں کا بھی دعویٰ کررہی ہےلیکن اس کے پاس اپنے اس دعوے پر شرعی شہادت موجود نہیں ،جبکہ شوہرمزید طلاقیں دینے سے انکاری ہے، اور میاں بیوی میں سے ہر ایک اپنے اپنے بیان پر حلف اٹھانے اور قبروآخرت کی جواب دہی کے لئے تیار ہے،جب ایسی صورت درپیش ہو جائے کہ بیوی تین طلاقوں کی دعویدار ہو مگر اس کے پاس شرعی شہادت موجود نہ ہو اور شوہر طلاق دینے سے انکاری ہو تو ایسی صورت میں " المراۃ کالقاضی " کے اصول کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے بیوی پر لازم ہے کہ اپنے آپ کو مطلقہ ثلاثہ سمجھے اور شوہر کو اپنے اوپر قطعاً قدرت نہ دے، تاہم یہ معاملہ اگر قاضی ( جج ) کی عدالت میں چلا جائے اور قاضی تین طلاقوں پر گواہ نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دے کر بیوی کو اس کے ساتھ روانہ کردے ، تو ایسی صورت میں بیوی اگرچہ گناہ گار نہ ہوگی، مگر پھر بھی اُسے چاہیے کہ حتی الامکان شوہر سے طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ خلاصی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔
کما فی ردالمحتار: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله.(ج:3،ص:251،ط:سعید)
و فی الهدايۃ :وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض اھ (ج:٢، باب الرجعۃ ص:٣٩٤،مط: شركت علمية )۔