کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری صورتِ حال یہ ہےکہ میں تین مہینے سے حاملہ ہوں، طلاق والی لڑائی تقریباً دس دن پہلے ہوئی، حمل بہت پہلے کی ہے، جب میرا نکاح بالکل ٹھیک تھا، میرے شوہر کہتے ہیں کہ انہوں نے صرف دو دفعہ طلاق دی ہے، میری ساس، نند اور جیٹھانی بھی دو طلاق کی گواہی دے رہی ہیں، مجھے تین طلاق کا کوئی واضح منظر یا لفظ یاد نہیں ، صرف لڑائیوں کی وجہ سے یادیں مکس / کنفیوژن ہیں، میرا سوال یہ ہے: اس صورت میں طلاق کتنی شمار ہوگی؟ کیا میرا نکاح ابھی بھی قائم ہے؟ کیا میری حمل شرعی طور پر حلال ہے؟ مہربانی فرما کر فتویٰ دو –تین دن کے اندر بھیج دیں، کیونکہ حمل کے دن بڑھ رہے ہیں اور مجھے جلدی تسلی کی ضرورت ہے۔ جزاک اللہ خیرا ۔
سوال میں ذکر کرتفصیل کے مطابق اگر سائلہ کا شوہر فقط دو طلاقوں کا اقرار کرتا ہو اور گھر کے دیگر افراد بھی شوہر کے بیان سے متفق ہوں،جبکہ سائلہ کو بھی تین طلاق سننے کا یقین یا غالب گمان نہ ہو،تو ایسی صورت میں سائلہ پر دوطلاق رجعی بھی واقع ہو گئی ہیں ،بشرطیکہ شوہر نے واضح اور صریح الفاظ مثلا" میں طلاق دیتا ہوں" کے ذریعہ اسے دو طلاق دی ہوں، جس کے بعد اسے دورانِ عدت (جو کہ حمل ہونے کی صورت میں وضعِ حمل ہے) رجوع کا اختیار حاصل ہے، لہذا اگر شوہر دورانِ عدت زبانی طور پر رجوع کرلے مثلاً کہہ دے کہ " میں رجوع کرتا ہوں “ وغیر ہ یا پھر عملاً میاں بیوی والے تعلقات قائم کر لیں یا شہوت کیسا تھ بیوی کو چھولے تو اس سے بھی رجوع ہو جائے گا، ورنہ رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت ختم ہونے پر دونوں کا نکاح ختم ہو جائے گا، اسکے بعد دوبارہ ایک ساتھ رہنے کیلئے گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کیساتھ باقاعدہ ایجاب و قبول کر کے تجدیدِ نکاح لازم ہو گا، بہر دو صورت آئندہ کیلئے شوہر کو فقط ایک طلاق کا اختیار ہو گا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی جائے،جب کہ سائلہ کا استقرارِ حمل اگر اس طلاق والے واقعہ سے قبل کا ہو جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو یہ بلا شبہ حلال اور اس کے شوہر سے ثابت النسب ہے، اس سلسلے میں شک و شبہ میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔
کما فی الدر المختار: علم أنه حلف ولم يدر بطلاق أو غيره لغا كما لو شك أطلق أم لا.ولو شك أطلقواحدة أو أكثر بنى على الأقل۔الخ(کتاب الطلاق،ج:3،ص:283،ط،سعید)
وفیہ ایضا:(و) في حق (الحامل) مطلقا ولو أمة، أو كتابية، أو من زنا بأن تزوج حبلى من زنا ودخل بها ثم مات، أو طلقها تعتد بالوضع جواهر الفتاوى (وضع) جميع (حملها)۔الخ(كتاب الطلاق،باب العدة،ج:3،ص:511،ط:سعید)
وفی بدائع الصنائع : ومنھا ثبوت النسب وإن كان ذلك حكم الدخول حقيقة لكن سببه الظاهر هو النكاح لكون الدخول أمرا باطنا، فيقام النكاح مقامه في إثبات النسب، ولهذا قال النبي: صلى الله عليه وسلم: الولد للفراش،وللعاهرالحجر۔الخ(کتاب النکاح،فصل ومنھا ثبوت النسب،ج:2،ص:331،ط:سعید)
وفی الھندیۃ: ومنها الشهادة بغير الحدود والقصاص وما يطلع عليه الرجال وشرط فيها شهادة رجلين، أو رجل وامرأتين سواء كان الحق مالا، أو غير مال كالنكاح والطلاق والعتاق والوكالة والوصاية ونحو ذلك مما ليس بمال كذا في التبيين اھ(کتاب الشھادات،ج3، ص451،ماجدیۃ)
فیہ ایضا:وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية۔الخ(كتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعة،ج:1،ص:470،ط:رشيديه)۔