میرا رخصتی کے بغیر صرف نکاح ہوا تھا۔ اپنی زوجہ کو میسج میں لکھ کر بھیجا کہ میں تم کو آزاد کرتا ہوں، اسکو سمجھ نہ آئی تو سمجھانے کی غرض سے واضح طور پر بیان کردیا کہ میں تم کو طلاق دیتا ہوں' میرا مقصد اور ارادہ ایک طلاق کا تھا، عدت کا عرصہ گزر گیا اور رجوع یا رخصتی نہیں ہوئی، میں نے اسٹامپ پیپر پر طلاق نامہ بنواکر اس پر دستخط کردئیے اور اپنے والد صاحب کو دیئے کہ سابقہ زوجہ کو دے دیں (واضح رہے کہ یہ عدت گزرنے کہ بعد ہوا). طلاق نامہ میرے والد نے کھو دیا ہے۔،میری طلاق واقع ہو چکی؟ ، فتوی صادر فرمایں۔ شکریہ
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر سائل نے اپنی بیوی کو رخصتی اور خلوت صحیحہ سے قبل مذکور جملہ ” میں تم کو آزاد کرتا ہوں“ کہہ دیا، تو اس سے ان کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر نکاح ختم ہوچکا ہے ، جبکہ مزید طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگی ہیں ، اور عورت بغیر عدت گزارے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ، تاہم اگر یہ دونوں دوبارہ ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہنا چاہتے ہوں ، تو باقاعدہ گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ با ضابطہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدید نکاح کرکے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، لیکن آئندہ کے لئے شوہر ( سائل) کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا،اس لئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہیئے۔
وفی الدر: (وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل وعم التفريق، قوله (وكذا أنت طالق ثلاثا متفرقات) الخ۔
وفی الشامیۃ تحت: (قوله وإن فرق بوصف) نحو أنت طالق واحدة وواحدة وواحدة، أو خبر نحو: أنت طالق طالق طالق، أو أجمل نحو: أنت طالق أنت طالق أنت طالق ح، ومثله في شرح الملتقى. (قوله بعطف) أي في الثلاثة سواء كان بالواو أو الفاء أو ثم أو بل ح وسيذكر المصنف مسألة العطف منجزة ومعلقة مع تفصيل في المعلقة (قوله أو غيره) الأولى أو دونه الخ۔ (باب طلاق غير المدخول بها، کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 286، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق وكذا إذا قال أنت طالق واحدة وواحدة وقعت واحدة كذا في الهداية. والأصل في هذه المسائل أن الملفوظ به أولا إن كان موقعا أولا وقعت واحدة الخ (الفصل الرابع في الطلاق قبل الدخول، ج: 1، ص: 373، طؒ ماجدیۃ)۔