دارالافتاء اہلِ علم کے لیے مشترکہ تحریری خلاصہ(شرعی تعینِ وقوع یا عدمِ وقوعِ طلاق کے لیے)،محترم مفتی صاحب عالمِ دین،السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،مؤدبانہ گزارش ہے کہ درج ذیل حقائق کی روشنی میں شرعی رہنمائی فرمائی جائے:میں" دانش میمن"ایک طویل عرصے سے شدید ذہنی اضطراب (Anxiety) کے ساتھIrritability (چڑچڑاپن)، شدید غصہ (Anger episodes) اورImpulsive behavior (بغیر سوچے ردِعمل دینا) جیسی کیفیات میں مبتلا رہا ہوں،ان امور کی باقاعدہ طبی تشخیص بعد کے عرصے میں ایک مستند ماہرِ نفسیات کی جانب سے ہوئی،
جس وقت طلاق سے متعلق الفاظ زبان ،تحریر میں آئے، اس وقت میری ذہنی کیفیت شدید غصہ، اضطراب اور جذباتی بے قابو پن پر مشتمل تھی، میں سکون، ٹھہراؤ اور متوازن غور و فکر کی حالت میں نہیں تھا، نہ طلاق دینے کی نیت تھی، نہ ارادہ، نہ کوئی فیصلہ وضاحت ضروری ہے کہ اس وقت میں کسی نشہ آور چیز یا نفسیاتی ادویات کے زیرِ اثر نہیں تھا، تاہم میری کیفیت ایسی تھی جس میں انسان اپنے الفاظ کے نتائج پر قابو نہیں رکھ پاتا، عرفاً یہ شدید جذباتی ہیجان کہلا سکتی ہے، جسے فقہی مباحث میں غضبِ شدید،حالتِ اغلاق کے قریب سمجھا جاتا ہے طلاق سے متعلق جو الفاظ استعمال ہوئے، ان کی درست نوعیت یہ ہے(عبارت تھی: “میں نے تمہیں طلاق دی” )یہی الفاظ تین مرتبہ تحریر کیے گئے، اور یہ پیغام (SMS،Message) کے ذریعے ارسال کیے گئے، یہ تحریر کسی سوچے سمجھے فیصلے، قصد یا نیت کے بغیر شدید غصہ اور impulsive کیفیت میں وقتی ردِعمل کے طور پر صادر ہوئی ، میں واضح طور پر بیان کرتا ہوں کہ: اس وقت نکاح ختم کرنے کا کوئی ارادہ میرے دل میں موجود نہیں تھا۔ نہ میں طلاق کے شرعی نتائج و اثرات کو سمجھ رہا تھا، نہ ہی بیوی کو مستقل طور پر چھوڑنے کا کوئی فیصلہ کیا گیا، بعد ازاں، جب ذہنی کیفیت میں قدرے سکون آیا، مجھے شدید ندامت ہوئی، میں نے بارہا واضح کیا کہ میرا نکاح ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، اور میں آج تک اسی مؤقف پر قائم ہوں، شریعت کے عمومی و مسلمہ اصول کے مطابق اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور طلاق جیسے سنگین معاملے میں قصد، ارادہ اور شعوری فیصلہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، شدید غصہ، اضطراب اور impulsive حالت میں تحریری طور پر بھیجے گئے صریح الفاظ کے شرعی اثرات کے بارے میں اہلِ علم کے ہاں تفصیل اور اختلاف پایا جاتا ہے، گزارش ہے کہ مذکورہ ذہنی کیفیت نیت اور قصد کے فقدان پیغام کے ذریعے impulsively بھیجے گئے الفاظ اور بعد ازاں مسلسل انکار و ندامت کو سامنے رکھتے ہوئے ازراہِ کرم یہ رہنمائی فرمائی جائے کہ کیا شرعاً طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں؟ یہ استفسار کسی حیلہ یا ضد کے لیے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے خوف اور اپنے نکاح اور بچوں کے مستقبل کے تحفظ کے پیشِ نظر پیش کیا جا رہا ہے۔جزاکم اللہ خیراً والسلام۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگرچہ سائل کو شدید ذہنی اضطراب (Anxiety) کا مرض لاحق ہے، لیکن جس وقت انہوں نے اپنی بیوی کو تین طلاق پر مشتمل مسیج ارسال کیا ہے،تو بقول سائل کےاس وقت وہ کسی دوائی وغیرہ کے زیر اثر نہ تھا بلکہ اسی وقت معاملہ کے ردِ عمل کے طور پرانہوں نے یہ مسیج کیا تھا،جس سے صاف معلوم ہوتا ہےکہ سائل کو الفاظ ِطلاق اور اس کا مفہوم و نتائج بخوبی معلوم تھے،لہٰذا اس کیفیت میں دی گئی تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،اور سائل کی بیوی اس پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ تجدیدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،جبکہ عورت ایامِ عدت مکمل کرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
کما فی رد المحتار :قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان، قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام : أحدها أن يحصل له مبادي الغضب بحيث لايتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه، الثاني : أن يبلغ النهاية فلايعلم ما يقول ولايريده، فهذا لا ريب أنه لاينفذ شيء من أقواله، الثالث : من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون، فهذا محل النظر والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله اهـ ملخصًا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع طلاق من غضب خلافًا لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش.اھ(كتاب الطلاق،ج:۳،ص:۲۴۴، ط: سعيد)
و فیہ ایضاً: أن من وصل في الغضب إلى حالة لا يدري فيها ما يقول يقع طلاقه الخ (مطلب فيما لو حلف وأنشأ له آخر، ج 3، ص 369، ط: سعید)۔
و فی الدر المختار: وتصح مع إكراه وهزل ولعب وخطإ (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة الخ(باب الرجعۃ، ج 3، ص 398، ط: سعید)۔
و فی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضًا حتى لايجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر.اھ((کتاب الطلاق، ج:3، ص: 187، ط:ایچ ایم سعيد)