السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
شوہر نے میسیج پہ بیوی سے کہا مجھے ایسا لگتا ہے کہ تم میرے ساتھ گزارہ نہیں کر سکتی بیوی نے جواب میں کہا میں گزارہ کر سکتی ہوں تم اپنا سوچو تمہارا نہیں، تو چھوڑ دو۔ اسکے بعد شوہر نے کہا مجھے تمہاری باتوں سے ایسا لگتا ہے کہ تم نہیں رہ سکتی، بیوی نے کہا “چھوڑ دو پھر، بات ختم” جواب میں شوہر نے بیوی سے کہا “ٹھیک ہے میں نے تمہیں چھوڑ دیا، بات ختم، آئندہ تمہارا میسیج نہ آئے اور اپنے والدین کو بتا دو کہ ہمارا ختم ہوگیا ہے”۔ اسکا حکم کیا ہے بیوی کو کونسی طلاق واقع ہوگی؟
مرد کے بعینهٖ الفاظ یہ تھے “میں نے تمہیں چھوڑیا دیا، بات ختم آئندہ تمہارا میسیج نہ آئے اور اپنے گھر والوں کو بتا دو ہمارا ختم ہوگیا ہے”
اور شوہر مع قسم اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی اور دوسری مرتبہ یہ کہنا “گھر والوں کو بتا دو ہمارا ختم ہوگیا ہے” اس سے میرا ارادہ پہلی بات (میں نے تمہیں چھوڑ دیا) کی خبر دینا تھا۔
کونسی طلاق واقع ہوگی؟ رجعی یا بائن؟ بعض مفتیان کرام کا کہنا ہے کہ ہمارا ختم ہوگیا ہے وغیرہ بعد کے الفاظ بائن کے ہیں لہذا ایک طلاق بائن ہوئی ہے ۔ اور دوبارہ نکاح ضروری ہے ۔ کیا یہ بات درست ہے ؟
شریعت مطہرہ کی روشنی میں وضاحت فرمائیں
واضح ہو کہ "میں نے تجھے چھوڑ دیا "، کا جملہ عرف میں صریح طلاق کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جس سے ، بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذاصورتِ مسئولہ میں شوہر نے جب اپنی بیوی کو اس کے طلاق کے مطالبے پر یہ الفاظ کہے" میں نے تجھے چھوڑ دیا" تو اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع چکی ہے ، شوہر عدت کے دوران اپنی بیوی سے رجوع کرنا چاہے تو عدت کے دوران رجوع کرسکتا ہے ۔البتہ عدت گزرنے کے بعددوبارہ ایک ساتھ رہنے کے لئیےنئے مہر و گواہو ں کے ساتھ دوبارہ نکاح کر نا لازم ہوگا ، بہر صورت آئندہ کے لئے شوہر کے پاس مزید دو طلاق کا اختیار باقی ہوگا۔
کما فى الدرالمختار:"فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال رها كردم أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الناس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت (الى قوله) وقع به الرجعي( باب الكنايات ، ج:٣ ، ص : ٢٩٩)
و فی الہدایۃ : " و إذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض ( ج : ٢،ص:٢٥٤ )