میرے شوہر نے مجھے دو طلاق دیں ۔ پھر جون 2025 مین انہوں نے اپنی پہلی بیوی کو منانے کے لیے اپنی ماں کی قسم کھا کر کھا کہ میں دوسری بیوی (یعنی مجھے) کو چھوڑ چکا ہوں جس نے نہ چھوڑا ہو اس کی ماں مر جائے ورنہ الزام لگانے والے کی ماں مر جائے۔
یہ وائس ریکارڈ موجود ہے میرے پاس ان کی پہلی بیوی نے مجھے پہنچادی۔اس کے علاوہ کہا کہ پہلی بیوی کو کہا کہ اگر میں خ۔۔۔(نام) کو اس کے پہلے شوہر کے پاس بھیج دیتا ہوں توواپس آجا ہے گی نا ۔ تو ایسا کہنے سےتیسری طلاق واقع ہوگئی یا نہیں ؟
صورت مسؤلہ میں سائلہ کے شوہر نے اسے دو طلاق رجعی دے کر اس سے دوران عدت رجوع کر لیا ہو ، تو یہ رجوع درست ہو کر میاں بیوی کا نکاح حسب سابق بر قرار ہے ، جبکہ حالیہ واقعہ میں پہلی بیوی کو منانے کی خاطر جو مذکور الفاظ " میں دوسری بیوی کو چھوڑ چکا ہوں " اگر رجوع کرنے سے قبل کہے گئے ہوں اور اس سے اس کی نیت نئی طلاق دینے کی بھی نہ ہو ، بلکہ جو دو طلاقیں پہلے دے چکا تھا اس کی خبر دینا مقصود ہو تو اس سے سائلہ پر مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، بلکہ میاں بیوی بدستور ایک ساتھ رہ سکتے ہیں ، مگر آئندہ کے لیئے چونکہ شوہر کو ایک ہی طلاق کا اختیار ہے، اس لئے اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے سے خوب احتیاط چاہیئے ۔
کما فی بدائع الصنائع : ولو قال لامرأته: أنت طالق فقال له رجل: ما قلت؟ فقال: طلقتها أو قال قلت: هي طالق فهي واحدة في القضاء؛ لأن كلامه انصرف إلى الإخبار بقرينة ( ٖفصل و منھا النیۃ فی احد نوعی الطلاق ، ج : 3 ، ص : 102 ، ط : سعید )
و فی الھندیۃ : ولو قال عنیت بالثانی الاخبار عن الاول لم یصدق فی القضاء و یصدق فیما بینہ و بین اللہ تعالی و لو قال لامراتہ انت طالق فقال لہ رجل ماقلت فقال طلقتھا او قال قلت ھی طالق فھی واحدۃ فی القضاء کذا فی البدائع اھ( الفصل الاول فی الصریح ، ج : 1 ، ص : 355 ، ط : ماجدیہ )
وفی الھندیۃ : الرجعۃ ابقاء النکاح علی ما کان ما دامت فی العدۃ کذافی التبیین وھی علی ضربین سنی و بدعی فالسنی ان یراجعھا بالقول و یشھد علی رجعتھا شاھدین و یعلمھا بذلک فاذا راجعھا بالقول نحو ان یقول لھا راجعتک او راجعت امراتی ولم یشھد علی ذلک او اشھد ولم یعلمھا بذلک فھو بدعی مخالف للسنۃ والرجعۃ صحیحۃ وان راجعھا بالفعل مثل ان یطاھا او یقبلھا بشھوۃ او ینظر الی فرجھا بشھوۃ فانہ یصیر مراجعا عندنا (الباب السادس فی الرجعۃ ، ج : 1 ، ص : 468 ، ط : ماجدیہ )