السلام علیکم ،جناب بیوی نے مجھ سے کہا کہ مجھے طلاق دے دو ،میں نے کہا کہ دے دی ہے ،میری نیت بھی طلاق کی تھی،تو کیا اس سے ایک طلاق واقع ہوگیا تھا؟اور رجوع کا طریقہ کیا ہے پلیز
صورت مسئولہ میں سائل کے ان الفاظ سے "میں نے دے دی ہے"ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے ،بشرطیکہ ہمبستری یا خلوت صحیحہ ہوچکی ہو ،تاہم سائل کودورا ن عدت رجوع کا حق حاصل ہے،رجوع زبانی بھی کیا جاسکتا ہے،جیساکہ میں نے تجھ سے رجوع کیا ، تم میری بیوی ہو،وغیرہ،اور فعل کے ذریعے بھی جیساکہ ہمبستری کرنے سے ،یا بوس وکنار کرنے سے، مگر آئندہ شوہر کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار ہے، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط سے کام لینا ضروری ہے۔
کما فی الدر:(ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح،(الی قولہ) ولو قيل له: طلقت امرأتك فقال: نعم أو بلى بالهجاء طلقت بحر (واحدة رجعية،(باب الطلاق الصریح،ج:3،ص:288،)
و فی الھدایۃ: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها " والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي " وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة.
قال: " أو يطأها أو يقبلها أو يلمسها بشهوة أو بنظر إلى فرجها بشهوة " (باب الرجعۃ:ج:2،ص:254،ط:داراحیاءالتراث العربی)