السلام علیکم! آج سے چھ سال پہلے میرا نکاح ہوا تھا۔ نکاح کے دو سال بعد جب میری رخصتی نہیں ہوئی تھی، تو میرے دل میں ایک خیال آیا کہ ”اگر آج کے بعد میں نے سگریٹ پی تو میری بیوی مجھ سے فارغ“ پھر چند دن بعدمیں نے اس نیت سے سگریٹ پی کہ یہ تو دل میں ایک خیال تھا میں نے اس کو زبان پر تو نہیں لایا اور اپنا وسوسہ ختم کرنے کےلئے سگریٹ پی لی، پھر میری رخصتی ہوگئی اور ابھی تک مجھے وسوسہ آرہا ہے کہ پتا نہیں میرانکاح اس خیال یا دل کے ارادے سے تو نہیں ٹوٹا؟
واضح ہو کہ طلاق واقع ہونے کےلئے ضروری ہے کہ طلاق کے الفاظ زبان سے ادا کئے جائیں یا تحریر کئے جائیں، اگر کوئی شخص فقط دل میں طلاق کے الفاظ سوچے یا طلاق کا ارادہ کرے اور زبان سے طلاق کے الفاظ نہ کہے تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں اگر سائل کا بیان حقیقت پر مبنی اور درست ہو کہ محض سائل کے دل میں مذکور الفاظ ” اگر آج کے بعد میں نے سگریٹ پی تو میری بیوی مجھ سے فارغ“ کا خیال پیدا ہوا ہو،اس نے زبان سے یہ الفاظ ادا نہ کیے ہوں تو ایسی صورت میں سائل کے سگریٹ پینے کی وجہ سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ بدستور ان کا نکاح برقرار ہے، لہٰذا شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے سے اجتناب کیا جائے۔
کما فی حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح: حتى لو أجرى الطلاق على قلبه وحرك لسانه من غير تلفظ يسمع لا يقع إلخ۔ (كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة وأركانھا،ص:206،ط:دارالكتب العلمية)
وفی الدر المختار: وركنه لفظ مخصوص إلخ۔
وفی الشامیۃ: تحت (قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس و الإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي۔ و به ظھر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق و لم يذكر لفظا لا صريحًا و لا كنايةً لايقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، و كذا ما يفعله بعض سكان البوادي من أمرها بحلق شعرها لايقع به طلاق و إن نواه إلخ۔(کتاب الطلاق، ج3، ص 239، ط: سعید)۔