طلاق

بیوی اور اس کے رشتہ داروں کو طلاق کہنے کا حکم

فتوی نمبر :
91056
| تاریخ :
2026-01-17
معاملات / احکام طلاق / طلاق

بیوی اور اس کے رشتہ داروں کو طلاق کہنے کا حکم

محترم مفتی صاحب!
میں آپ سے ایک مسئلہ کے بارے میں پوچھنا چاہتی ہوں۔
ایک لڑائی کے دوران میری بہن نے اپنے شوہر سے کہا کہ وہ اپنی دوسری بیوی اور اس کے پورے خاندان کو طلاق دے دے۔ اس پر اس کے شوہر نے غصے میں کہا کہ
“میں نے جس عورت سے شادی کی ہے، میں اسے، اس کی ماں، اس کی بہن، اور اس کے تمام رشتہ داروں کو، قیامت تک آنے والی نسلوں سمیت طلاق دیتا ہوں، اور جب جب کبھی ان سے میری شادی ہوگی تب تب انہیں طلاق ہو جائے گی۔”
پھر اس نے یہ بھی کہا کہ
“اب کہیں تم بھی ان کی رشتہ دار نہ نکل آؤ۔”
اب میرا سوال یہ ہے کہ
کیا اس طرح کہنے سے دوسری بیوی کو طلاق واقع ہو گئی ہے؟
کیا اس طلاق کو ختم یا واپس کیا جا سکتا ہے؟
شوہر نے جو یہ کہا کہ “کہیں تم بھی ان کے خاندان سے نہ نکل آؤ”، کیا اس بات سے پہلی بیوی کو بھی طلاق واقع ہو سکتی ہے؟
شوہر کا کہنا ہے کہ اس نے یہ سب باتیں صرف غصہ ظاہر کرنے کے لیے کہیں، اور اس کا مقصد صرف دوسری بیوی اور اسی کے خاندان کی طرف اشارہ تھا، پہلی بیوی اس کی نیت میں شامل نہیں تھی۔
مزید یہ کہ پہلی بیوی راجپوت ہے اور دوسری بیوی جٹ ہے۔ دونوں خاندانوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں اور دونوں الگ الگ شہروں سے ہیں۔ لیکن ایک وسوسہ یہ ہے کہ اگر کہیں سے بہت دور کا بھی کوئی رشتہ نکل آئے تو کیا اس صورت میں پہلی بیوی کو بھی طلاق واقع ہو جائے گی؟
بظاہر دونوں خاندان الگ ہیں۔ جب شوہر سے اس بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ
“میں نے دوسری بیوی ہی کو مخاطب کیا تھا اور اسی کے خاندان کو کہا تھا، پہلی بیوی کا اس میں کوئی ارادہ یا نیت نہیں تھی۔”
براہِ کرم اس مسئلے میں شرعی رہنمائی فرما دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

غصہ کی حالت میں دی ہوئی طلاق بھی شرعاً واقع ہو جاتی ہے، جبکہ صریح الفاظ میں طلاق کے لئے نیت کا ہونا بھی ضروری نہیں، بلکہ بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ لہذا شوہر نے جب یہ کہا کہ: "میں نے جس عورت سے شادی کی ہے، میں اسے، اس کی ماں، اس کی بہن، اور اس کے تمام رشتہ داروں کو، قیامت تک آنے والی نسلوں سمیت طلاق دیتا ہوں، اور جب جب کبھی ان سے میری شادی ہوگی تب تب انہیں طلاق ہو جائے گی" اور اس موقع پر دوسری بیوی کے متعلق ہی بات چل رہی تھی، تو اس سے مذکورہ شوہر کی دوسری بیوی کو ایک طلاق ہو گئی؛ جس کے بعد شوہر کو عدت کے دوران رجوع کا حق حاصل ہے۔ چنانچہ اگر شوہر نے عدت میں رجوع کرلیا تو دونوں کا نکاح حسبِ سابق برقرار رہے گا، لیکن اگر دورانِ عدت رجوع نہ ہوا تو عدت گزرنے سے نکاح بالکل ختم ہوجائے گا۔ اور آئندہ جب بھی وہ اس دوسری بیوی سے نکاح کرے گا، تو اسے طلاق واقع ہوا کرے گی۔ الغرض مذکورہ شوہر کے اس جملے اور کلمات کی وجہ سے اس کی دوسری بیوی اس کے ساتھ ہمیشہ کے لیے ازدواجی حیثیت سے نہیں رہ سکے گی، الا یہ کہ کوئی اور شخص (فضولی) شوہر کے کہے بغیر نکاح کرادے اور شوہر حقِ مہر کی ادائیگی وغیرہ کے ذریعے عملاً اس نکاح کی اجازت دے دے۔ جبکہ مذکورہ جملے ”تم بھی کہیں ان کے خاندان سے نہ نکل آؤ“ سے پہلی بیوی کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا اور نہ ہی اس پر کوئی طلاق واقع ہوئی ہے، اس لیے اسے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الہندیة: ألفاظ الشرط إن وإذا وإذما وكل وكلما ومتى ومتى ما ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط ‌انحلت اليمين وانتهت لأنها تقتضي العموم والتكرار فبوجود الفعل مرة تم الشرط وانحلت اليمين فلا يتحقق الحنث بعده إلا في كلما لأنها توجب عموم الأفعال."اھ(كتاب الطلاق،ج:1،ص:415،ط:رشيديه)
و فیہ ایضا:ولو دخلت كلمة كلما على نفس التزوج بأن قال: كلما تزوجت امرأة فهي طالق أو كلما تزوجتك فأنت طالق يحنث بكل مرة وإن كان بعد زوج آخر هكذا في غاية السروجي. ولو قال: ‌كل ‌امرأة ‌أتزوجها فهي طالق فتزوج نسوة طلقن ولو تزوج امرأة واحدة مرارا لم تطلق إلا مرة واحدة كذا في المحيط ولو نوى بعض النساء صحت نيته ديانة لا قضاء وقال الخصاف: تصح نيته في القضاءأيضاوالفتوى على ظاهرالمذهب.اھ(کتاب الطلاق،ج1،ص415،ط؛دار الفکر)
و فی الرد المحتار تحت قوله:( وكذا كل امرأة) أي إذا قال: كل امرأة أتزوجها طالق، والحيلة فيه ما في البحر من أنه يزوجه فضولي، ويجيز بالفعل كسوق الواجب إليها، أو يتزوجها بعد ما وقع الطلاق عليها؛ لأن كلمة كل لاتقتضي التكرار. اهـ. وقدمنا قبل فصل المشيئة ما يتعلق بهذا البحث."اھ(کتاب الطلاق،ج3،ص345،ط؛سعید)
و فی الجامع الکبیر :رجل له امرأة تسمى زينب فقال: أول امرأة أتزوجها فهي طالق، أو قال: طلقت أول امرأة قد تزوجتها، أو كانت لي امرأة اشهدوا أنها طالق، أو قال: قد كنت طلقت امرأتي أو قد كنت طلقت إحدى نسائي، أو كنت طلقت امرأة لي يقال لها زينب، أو قد كنت طلقت زينب، ثم قال في هذا كله: لي امرأة وهي التي طلقت، لم يصدق وطلقت المعروفة معها ،ولو قال: قد كنت طلقت أول امرأة تزوجتها أو كانت لي امرأة فطلقتها، أو قد كنت طلقت امرأة لي يقال لها زينب، فهو في هذا كله مصدق، ولا تطلق المعروفة. وكذلك لو كان له عبد فقال: قد كنت اشتريت عبدا فأعتقته فهو مصدق أنه غير المعروف.اھ( باب من الأيمان فيما يوجب الرجل على نفسه،ص:۷۶،ط: لجنة احیاء المعارف)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91056کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 7
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 3
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات