میرے شوہر کا چکر (افئیر)کافی عرصے سے تھا، وہ میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتے تھے، وہ دوسری شادی کرنا چاہتے تھے، میرے دو بچے ہیں،ایک بیٹی ،اور ایک بیٹا دس مہینے کا ،میرے شوہر نیند کی گولیاں کافی ٹائم سے لے رہے تھے، اس بات کی گواہ میں بھی ہوں اور سب بھی ہیں،کیونکہ انکو میرے ساتھ رہنا نہیں تھا، والدین میرے لئے ان سے لڑائی کررہے تھے ،غصے میں وہ آیا کمرے میں، اور مجھے طلاق دیدی، (میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،)طلاق دینے کے ایک مہینہ پہلے دو دفعہ ایسا ہو اہے،اور طلاق دینے سے کچھ دن پہلے بھی ایسا ہوا ہے کہ وہ اچانک ٹھیک ہوجاتے،سب کچھ ٹھیک کردیتےتھے، اور محبت سے رہتے تھے، اچانک اگلے ہی دن واپس اسی طرح سے بات کرتےتھے، تمہارے ساتھ رہنا نہیں ہے، گزارہ نہیں ہے تمہارے ساتھ ،میں نے اپنی عدت اپنے سسرال میں پوری کی، اب مجھے اپنے گھر آئے ہوئے 4 مہینے ہوگئے ہیں،میرے شوہر چاہتے ہیں کہ زاکر نائک کے بیان کے مطابق وہ کہہ رہے ہیں کہ انکا اور میرا دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے،نئے حق مہر کے ساتھ، تو میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا یہ صحیح ہے؟جائز ہے؟
قران و سنت کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاقیں خوا ہ ایک جملہ سے دی ہوں ،جیسے تجھے تین طلاق ہیں، یا الگ الگ جملوں سے دی ہوں، جیسے تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے ،تجھے طلاق ہے، ان دونوں صورتوں میں تین طلاقیں شمار ہونگی اور تینوں ہی واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو جائے گی جس کے بعد نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقد نکاح ہو سکتا ہے ۔حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین عظام رحمہم اللہ تعالی کا اس پر اتفاق ہے اور امت کے چاروں اماموں ،یعنی حضرت امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک طلاق رجعی کے حکم میں ہرگز نہیں ۔لہذا سائلہ کے شوہر کا فقہ حنفی کا پیروکارہوتےہوئے تین طلاق کےمسئلے میں ذاکر نائک کے بیان کو بنیاد بناکراس میں اپنے لیے گنجائش نکالنے کی کوشش کرنادینی احکام کو اپنے خواہشات اور مرضی کے مطابق استعمال کرنےکی کوشش ہے جو شرعاًبھی جائز نہیں جس سے اجتناب لازم اور ضروری ہے ۔چنانچہ سائلہ کے شوہر نے جب سائلہ کو یہ جملہ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں “تین بار کہہ دیا تو اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتاچونکہ سائلہ کے ایام عدت گزرچکے ہیں اس لئے سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی جاء فی التنزیل فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُ ۥۗ ، الآیۃ (البقرۃ:230)
وفی صحیح البخاری: عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: "لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول"(ر:2496)
وفی الدرالمختار: وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.(ج:3،ص:233،مط: سعید)
وفی الھندیۃ: متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق۔(ج:1،ص:156،مط:ماجدیہ)