السلام علیکم ،محترم !مجھے اپکی رہنمائی چاہیے، پلیز میری رہنمائی فرمائیں ،میری شادی کے (4)سال ہو چکے ہیں، اب جا کے مجھے ثبوت کےساتھ پتہ چلا ہے کہ میری بیوی کے ناجائز تعلقات ہیں ایک سے زیادہ لوگوں کے ساتھ جن کے تمام ثبوت اسکی ریکارڈنگ میسج اسکی زبانی سب موجود ہے ،میں اسے طلاق دینا چاہتا ہوں جو کہ اب ضروری ہے ،مجھے یہ بتائیں کہ اگر ناجائز تعلقات کی بنا پر طلاق دیا جائے تو کیا تب بھی حق مہر دینا پڑے گا ؟
بیوی کے ناجائز مراسم کی وجہ سے طلاق دینے کی صورت میں بھی حق مہر ساقط نہیں ہوتا ،چنانچہ بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم ہونے کے بعد پورا حق مہر ادا کرنا لازم ہے ،البتہ اگر طلاق دینا ناگزیر ہو تو ایسی صورت میں سائل کو چاہیے کہ وہ ایک طلاق رجعی ایسے طہر (پاکی)میں دے کہ جس طہر میں بیوی کیساتھ جماع نہ ہوا ہو ،چنانچہ عدت گزرنے پر نکاح خود بخود ختم ہو جائیگا اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی ۔
کما فی ردالمحتار : (قوله لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة) ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا اهـ مجتبى والفجور يعم الزنا وغيره وقد «قال - صلى الله عليه وسلم - لمن زوجته لا ترد يد لامس وقد قال إني أحبها: استمتع بها،ج: 3۔ص: 427۔)
و فیہ الدر : (وتجب) العشرة (إن سماها أو دونها و) يجب (الأكثر منها إن سمى) الأكثر ويتأكد (عند وطء أو خلوة صحت) من الزوج (أو موت أحدهما) أو تزوج ثانيا في العدة أو إزالة بكارتها بنحو حجر بخلاف إزالتها بدفعة فإنه يجب النصف بطلاق قبل وطء ولو الدفع من أجنبي، فعلى الأجنبي أيضا نصف مهر مثلها إن طلقت قبل الدخول وإلا فكله نهر بحثاأو إزالة بكارتها بنحو حجر بخلاف إزالتها بدفعة فإنه يجب النصف بطلاق قبل وطء ولو الدفع من أجنبي، فعلى الأجنبي أيضا نصف مهر مثلها إن طلقت قبل الدخول وإلا فكله نهر بحثا،ج:3 ص: 102۔)
و فی الھندیۃ : (أما) الطلاق السني في العدد والوقت فنوعان حسن وأحسن فالأحسن أن يطلق امرأته واحدة رجعية في طهر لم يجامعها فيه ثم يتركها حتى تنقضي عدتها أو كانت حاملا قد استبان حملها والحسن أن يطلقها واحدة في طهر لم يجامعها فيه ثم في طهر آخر أخرى ثم في طهر آخر أخرى كذا في محيط السرخسي،ج: 1،ص: 348۔)