موضوع:
زبردستی طلاق اور خفیہ نکاح کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے
محترم مفتی صاحب / دارالافتاء،
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا مسئلہ نہایت حساس اور زندگی بھر کے فیصلے سے متعلق ہے، اس لیے میں شرعی رہنمائی چاہتی ہوں۔
میں ایک بالغ، عاقل مسلمان لڑکی ہوں۔ کچھ عرصہ قبل میرا نکاح ایک مسلمان مرد سے ہوا۔
نکاح کے وقت:
ایجاب و قبول ہوا
شرعی گواہ موجود تھے
مہر مقرر تھا
دونوں فریقین کی مکمل رضامندی شامل تھی
یہ نکاح والدین کی رضامندی کے بغیر خفیہ طور پر ہوا،اور ازدواجی تعلق بھی قائم ہوا ہے، اب وہ اس رشتے پر راضی نہیں تھے، حالانکہ لڑکا شرعاً کفو تھا۔
بعد ازاں میرے والدین نے شدید دباؤ، ڈر اور جذباتی جبر کے ذریعے میرے شوہر سے ایک ہی وقت میں تین طلاق دلوائیں، حالانکہ:
ہم دونوں طلاق نہیں چاہتے تھے
شوہر پر سخت دباؤ تھا
میں اس رشتے کو باقی رکھنا چاہتی تھی
میں واضح طور پر عرض کرنا چاہتی ہوں کہ:
میں کسی قسم کی حرام زندگی نہیں گزارنا چاہتی
میں صرف حلال اور شرعی طریقے سے اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں
میرے والدین اب مجھے کسی اور جگہ زبردستی شادی پر مجبور کرنا چاہتے ہیں، جبکہ میں اس پر راضی نہیں
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں:
کیا میرا یہ نکاح شرعاً درست تھا؟
کیا والدین کی رضامندی کے بغیر ہونے والا نکاح معتبر ہے؟
زبردستی اور دباؤ میں دلوائی گئی ایک مجلس کی تین طلاق شرعاً واقع ہوئیں یا نہیں؟
اگر طلاق واقع نہیں ہوئی یا ایک شمار ہوتی ہے تو کیا رجوع ممکن ہے؟
کیا والدین کا مجھے دوسری شادی پر مجبور کرنا شرعاً جائز ہے؟
اس صورت میں میرے لیے شرعی طور پر صحیح اور گناہ سے بچنے کا راستہ کیا ہے؟
میں آپ سے عاجزانہ درخواست کرتی ہوں کہ مجھے واضح، تحریری اور مضبوط شرعی رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ میں اپنی زندگی اللہ کے احکام کے مطابق گزار سکوں۔
اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
والسلام
سائلہ کا والدین اور اولیاء کی اجازت کے بغیر کسی لڑکے کے ساتھ نکاح کرنا اگرچہ نامناسب عمل تھا اور ہمارے عرف میں یہ عمل انتہائی معیوب شمار ہوتا ہے ، تاہم یہ نکاح چونکہ باقاعدہ ایجاب و قبول کیساتھ کفؤ میں ہوا تھا ( جیسا کہ سوال میں مذکور ہے )اس لئے شرعا نکاح درست منعقد ہوچکا تھا چنانچہ اس کے بعد جب میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہوا اور ازدواجی تعلق کے بعد سائلہ کے والدین نے سائلہ کے شوہر سے تین طلاقیں دلوائیں تو اگرچہ ان کا یہ عمل بھی مناسب نہیں تاہم نکاح و رخصتی کے بعد بیک وقت دی گئی تین طلاقیں بھی شرعا واقع ہوجاتی ہیں ، اس لئے سائلہ پر شرعا تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،جبکہ سائلہ کے والدین کا سائلہ کو اس کی رضامندی کے بغیر کسی شخص کے ساتھ نکاح پر مجبور کرنا درست نہیں بلکہ انہیں چاہئے کہ نکاح جیسے اہم معاملہ میں سائلہ کی رضامندی کو بالکلیہ نظر انداز نہ کریں تاکہ مستقبل میں بیٹی کی ازدواجی زندگی اور خاندانی تعلقات ناچاقیوں اور اختلاف کے شکار نہ ہو ں ،اور سائلہ کو بھی چاہئے کہ جس جگہ سائلہ کے والدین سائلہ کا نکاح کرانا چاہتے ہیں اگر اس لڑکے میں کوئی شرعی اور اخلاقی برائی نہ ہو تو اپنی پسند پر اصرار کرنے کے بجائے والدین کی رضامندی کو بھی ملحوظ رکھے تاکہ والدین کی دعاؤں کی بدولت اس رشتے کے ثمرات خوشگوار اور پائیدار ہوسکیں۔
کما فی الدر المختار: ( الکفاءۃ معتبرۃ ) فی ابتداء النکاح للزومہ او لصحتہ (من جانبہ )( ج:3،ص:74)
وفی رد المحتار تحت قولہ ( الکفاءۃ معتبرۃ ) قالو معناہ معتبرۃ فی اللزوم علی الاولیاء حتی ان عند عدمھا جاز للولی الفسخ اھ فتح و ھذا بناء علی ظاھر الروایۃ من ان العقد صحیح ، و للولی الاعتراض ، اما علی روایۃ الحسن المختار للفتوی من انہ لا یصح (ج: 3، ص: 74 )
وفی الھندیۃ: یقع طلاق کل زوج إذا کان بالغا عاقلا سواء کان حرا أو عبدا طائفا أو مکرھا کذا فی الجوھرۃ النیرۃ ( ج:1،ص:353 )
وفی بدائع الصنائع: وأما کون الزوج طائعا فلیس بشرط عند أصحابنا و عند الشافعی شرط حتی یقع طلاق المکرہ عندنا و عندہ لا یقع إلخ۔ ( ج: 3، ص : 100، )
فی الفتاوی الھندیۃ: لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل، كذا في السراج الوهاج (ج:1،ص:287)
وفی بدائع الصنائع: الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلا بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض ۔( ج:2،ص:247)