میری بیوی کے ساتھ لڑائی ہوئی تو غصے میں گھر سے باہر جارہی تھی ، تو میں نے بیگم کو غصے سے کہا صرف ڈرانے کے لیئے ، کے گھر سے اگر باہر گئی تو فارغ ہو جاؤگی تاکے باہر نہ جائے ، رات کا وقت تھا ، میرے ضد کے ساتھ وہ نکل گئی گھر سے ، اور کچھ وقت بعد واپس آگئی ہے گھر ، تو اس بارے میں کیا حکم ہے ، اس کے بعد میری بیوی کے ساتھ ملاقات اور ایک دفعہ ہمبستری بھی ہو گئی ہے تو اسکا حکم پوچھنا تھا ، کہ ایک طلاق ہوگئی ہے ،اور واپس ایک دفعہ ملاقاتکرنے سے رجوع بھی ہو جاتا ہے اس معاملے میں رہنائی فرمائیں ۔
صورت مسؤلہ میں لڑائی جھگڑے کے دوران سائل کے مذکور الفاظ " اگر گھر سے باہر گئی تو فارغ ہوجاؤگی " کہنے کے بعد بیوی باہر چلی گئی ہو ، اس سے بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے جس کے بعد ان دونوں کو ساتھ رہنے کے لیئے باضابطہ تجدید نکاح کرنا لازم ہے بغیر تجدید نکاح کے ان کا ساتھ رہ کر ازدواجی تعلق قائم کرنا جائز نہ تھا ، جس پر دونوں کو بصدق دل توبہ و استغفار لازم ہے ، البتہ اگر اب دونوں میاں بیوی ایک ساتھ رہنے پر رضامند ہوں ، تو باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقررکے ساتھ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدیدنکاح کرکے میاں بیوی کی طرح زندگی گزار سکتے ہیں ، تاہم ایسی صورت میں آئندہ کے لیئے سائل کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ، اس لیئے آئندہ طلاق کے معاملے میں خوب اختیاط سے کام لینا چاہیئے
کما فی الھندیۃ : إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة و بعد انقضائھا ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ ، ج : 1 ، ص : 472 ، ط : ماجدیہ )
وفی فتح القدیر : لو تزوجها قبل التزوج أو قبل إصابة الزوج الثاني حيث تعود بما بقي من التطليقات ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ، ج : 1 ، ص : 184 ، ط : شرکۃ مکتبۃ )
و فی الدرالمختار : ( فنحو اخرجی واذھبی و قومی ) تقنعی تخمری استتری انتقلی انطلقی اغربی اعزبی من الغرابۃ او من الغروبۃ ( یحتمل ردا، ونحو خلیۃ بریۃ حرام )
وفی رد المحتار تحت قولہ ( حرام ) وقوع البائن بہ بلا نیۃ فی زماننا للتعارف ، لا فرق فی ذلک بین محرمۃ و حرمتک، الی قولہ و کونہ التحق بالصریح للعرف لا ینافی وقوع البائن بہ فان الصریح قدیقع بہ البائن کما ان بعض الکنایات یقع بہ الرجعی والحاصل انہ لما تعورف بہ الطلاق صار معناہ تحریم الزوجۃ وتحریمھا لایکون الا بالبائن ھذا غایۃ ما ظھر لی فی ھذا المقام اھ ( باب الکنایات، ج: 3، ص: 300، ط: سعید )