السلام علیکم! میری بیوی مسلسل مجھ سے جھگڑا کرتی ہے، بے فضول باتوں کو جواز بنا کر۔ جب میں اپنی ہر ذمہ داری پوری کرتا ہوں۔ میری ساس جو کہ میری خالہ بھی ہے لیکن انتہائی لالچی ٹائپ عورت ہے۔ میں ساس کو بھی کہتا ہوں کہ اپنی بیٹی کو سمجھاؤ، مت لڑا کرے فضول میں، کیونکہ گھر کا ماحول خراب ہوتا ہے، لیکن میری ساس نے ہمیشہ یہ کہا کہ تم بڑے ہو، تم برداشت کر لیا کرو۔ خیر 5 فروری 2025 کو میں اپنی بچیوں کو ساتھ لے کر ناشتہ لینے نکلا، جاتے ہوئے میں امی ابو کے پورشن میں گیا، بس میرا جانا تھا اور میری بیوی آگ بگولہ ہو کر میری ماں سے بدتمیزی کرتے ہوئے لڑ پڑی۔ شور شرابا سن کر گراؤنڈ فلور سے میری بہن بھی آ گئی، میری بیوی اس کے ساتھ بھی الجھ گئی۔ میں سب دیکھ رہا تھا، غصہ بہت تھا لیکن میں نے خود کو کنٹرول کیا اور ضبط کیا سب کچھ اور گراؤنڈ فلور پر چلا گیا۔ میری بیوی فرسٹ فلور سے شور مچانے لگ گئی کہ مجھے طلاق دو، طلاق دو، بہت چیخ چیخ کر بار بار بول رہی تھی۔ میں نے غصے میں بولا نیچے آؤ طلاق دیتا ہوں۔ وہ فوراً بھاگتی ہوئی نیچے آئی، مجھے گریبان سے پکڑ لیا اور بولی دو اب جلدی کرو، جبکہ میں نے اس کو غصے میں دھکا دیا کیونکہ وہ حد سے زیادہ بدتمیزی کر رہی تھی، لیکن اس نے بس شور مچا لیا کہ طلاق ہو گئی، طلاق ہو گئی۔ فوراً اس نے اپنی ماں کو بھائی کو کال کر کے بول دیا کہ جلدی آؤ مجھے طلاق ہو گئی ہے، جبکہ میں نے صرف یہ بولا کہ نیچے آؤ طلاق دیتا ہوں۔ یہ بھی میں نے شدید غصے کی حالت میں بولا لیکن میری نیت طلاق دینے کی بالکل بھی نہیں تھی۔ اب مجھے شرعی طور پر فتویٰ چاہیے ہے کہ طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟ کیونکہ بیوی اور سسرال والے بولتے ہیں کہ طلاق ہو گئی ہے۔ کیونکہ بیوی 6 ماہ پہلے بھی مجھ سے پوچھے بغیر، بتائے بغیر بچیاں اور سارا زیور لے گئی تھی اپنی ماں کے گھر، پھر 6 ماہ بعد جرگے کی وجہ سے واپس آئی، تو میں اس کو بولتا تھا کہ اپنا زیور واپس لا کر اپنے پاس رکھو اور وہ ٹال مٹول کر رہی تھی، اور میں بھی اکثر بولتا رہتا تھا کہ اپنا زیور اپنے پاس رکھو۔ اس نے ماں کو بولا کہ یہ بولتا ہے زیور اپنے پاس رکھو، تو اس کی ماں نے بولا کہ میں پولیس کو بلاؤں گی، یہ زیور کا نام بھی کیوں لیتا ہے؟ اور مسلسل بدتمیزی جھگڑے کرتی رہی۔ میں نے گھر والوں کو کہا بھی تھا کہ یہ کچھ برا کرنے والی ہے اور ٹھیک 3 دن بعد یہ واقعہ پیش آ گیا۔ اس لیے مجھے فتوے کی ضرورت ہے۔ والسلام۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو،اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ اس نے جھگڑےکےدوران غصہ میں آکر بیوی کےمطالبہ طلاق کے جواب میں اسے فقط مذکور الفاظ " نیچے آؤ طلاق دیتا ہوں" ہی کہے ہوں،تو چونکہ یہ الفاظ عرف میں وعدہ طلاق اور طلاق کی دھمکی کےلیے استعمال ہوتے ہیں،انشاء طلاق پردلالت نہیں کرتے،اس لیے ان الفاظ کے کہنے سے بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،بلکہ میاں بیوی کا نکاح حسب سابق برقرار ہے،لیکن آئندہ کےلیے اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے سے احتیاط لازم ہے،لہذا سائل کی بیوی اور اس کے گھر والوں کا فقط ان الفاظ کی بنا پر طلاق کا دعوی کرنا درست نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ: صیغۃ المضارع لایقع بھاالطلاق الا اذاغلب فی الحال۔الخ(کتاب الطلاق،ج:1،ص:38،ط:حقانیۃ)
و في الھندیۃ: فقال الزوج طلاق ميكنم طلاق ميكنم وكرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قوله كنم لأنه استقبال فلم يكن تحقيقا بالتشكيك،في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا۔الخ(الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ،ج:1،ص:384،ط:سعید)۔