محترم مفتی صاحب، مجھے فقہ حنفی کے مطابق ایک مسئلے کے بارے میں فتویٰ درکار ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ میرے شوہر نے مجھے 29 ستمبر 2025 کو دو طلاقیں دی تھیں۔ اس کے بعد سے اب تک ہم نہیں ملے، لیکن طلاق کے دو ماہ بعد انہوں نے مجھے اور میرے گھر والوں کو صرف رجوع کا میسج (پیغام) کیا تھا۔ تو کیا ہمارا رجوع ہو گیا ہے یا نہیں؟ مہربانی فرما کر قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں
صورت مسئولہ میں اگر سائلہ کے شوہر نے اسے ۲۹ ستمبر ۲۰۲۵ کو صریح الفاظ جیسے " میں طلاق دیتا ہوں " کے ذریعہ دو طلاقیں دیدی ہوں،تو اس سے سائلہ پر دو طلاقِ رجعی واقع ہو چکی تھیں ، جس کے بعد دورانِ عدت شوہر کو رجوع کا حق حاصل تھا، چنانچہ شوہر نے طلاق دینے کے دوماہ بعد رجوع کے الفاظ مثلا میں رجوع کرتا ہوں و غیرہ کے ذریعے کہہ کر اور تحریر کرکے رجوع کر لیا ہو اور اس وقت سائلہ كي عدت (طلاق کے بعد تیسری ماہواری )مکمل نہ ہو ئی ہو ،تو اس سے رجوع درست ہوکر میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق برقرار ر ہے،لہذا وہ دونوں ساتھ رہنا چاہئں تو رہ سکتے ہیں،لیکن آئندہ کے لئے شوہر کو فقط ایک طلاق کا اختیار حاصل ہوگا،اس لئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہئے۔
کما فی الہندیۃ : ( ألفاظ الرجعة صريح و كناية) (فالصريح) : راجعتك في حال خطابها أو راجعت امرأتي حال غيبتها و حضورها أيضا و من الصريح ارتجعتك و رجعتك و رددتك و أمسكتك و مسكتك بمنزلة أمسكتك فهذه يصير مراجعا بها بلا نية.(و الكناية) : أنت عندي كما كنت و أنت امرأتي فلا يصير مراجعا إلا بالنية كذا في فتح القدير اھ (1باب فی الرجعة،ج:۱،ص:۴۶۸،ط:المطبعة الکبری)
و فی ندائع الصنائع:أما الصريح فهو اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح ، وهو لفظ الطلاق أو التطليق مثل قوله : " أنت طالق " أو " أنت الطلاق ، أو طلقتك ، أو أنت مطلقة " مشددا۔"اھ(بکتان الطلاق،ج:۳،ص:۱۶۱، ط :سعید)
وفی الفقہ الاسلامی: وتنفذ الطلقات الثلاث بالاتفاق، سواء طلق الرجل المرأة واحدة بعد واحدة، أم جمع الثلاث في كلمة واحدة بأن قال: أنت طالق ثلاثاً، عند الجمهور خلافاً للظاهرية.اھ (باب قدر الطلاق،ج:۹،ص:۶۹۰۶،ط:المکتبة الرشیدیة)
و فی البناية شرح الهداية: باب الرجعة وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين، فله أن يراجعها في عدتها، رضيت بذلك أو لم ترض، لقوله تعالى: {فأمسكوهن بمعروف} (البقرة: الآية ٢٣١) من غير فصل. ولا بد من قيام العدة، لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمي إمساكا.اھ(باب الرجعة ،ج:۵،ص:۴۵۵،ط: دار الکتب العلمیہ)