رخصتی سے قبل طلاق لے کر دوبارہ نکاح کا حکم شرعی سوال: چھ سال قبل والدین کی رضا مندی اور ان کے سرپرستی میں نکاح ہوا تھا اور چار سال بعد چند ناگریز وجوہات کی بنا پر نکاح قائم نہ رہ سکا، اور لڑکی نے کورٹ سے خلع لے لی۔ اور خلع کے بعد وكيل کے ہاتھ حق مہر کی رقم اورطلاق نامہ بھیجا گیالڑکے کے لیے ، جس پر لڑکےنے دستخط کردیئے تھے اور حق مہر کی كل رقم بھی لے لی تھی، اب خلع کو دو سال ہوچکے ہیں، کیا لڑکا اور لڑکی باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ؟ کیا شریعت اس کی اجازت دیتی ہے؟ نوٹ: نکاح کے بعد رخصتی نہیں ہوئی تھی اور ناہی دونوں کی تنہائی میں کوئی ملاقات ہوئی تھی، بس صرف فون کال پر رابطہ تھا۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً لڑکے نے حق مہر کی رقم وصول کرکےعدالتی خلع کے کاغذات پر دستخط بھی کردیئے تھے، تو یہ اس کی طرف سے خلع پر رضامندی شمار ہوگی، اور اس طرح خلع واقع ہوکر میاں بیوی کا نکاح شرعاً ختم ہوگیا تھا۔
تاہم اب اگر لڑکا، لڑکی دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو شرعى گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کرنے کے بعد ساتھ رہ سکتے ہیں، تاہم آينده کے لىے شوہر کو صرف دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا، لہذا آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
كما في الدر المختار: (إزالة ملك النكاح) (إلى قوله) (المتوقفة على قبولها) (إلى قوله) (بلفظ الخلع) خرج الطلاق على مال فإنه غير مسقط فتح، وزاد قوله (أو ما في معناه) ليدخل لفظ المبارأة فإنه مسقط كما سيجيء، ولفظ البيع والشراء فإنه كذلك كما صححه في الصغرى خلافا للخانية، وأفاد التعريف صحة خلع المطلقة رجعيا.اهـ
وفي رد المحتار: تحت قوله (قوله: بخلاف خالعتك إلخ) بخلاف ما إذا ذكر معه المال بلفظ المفاعلة، أو الأمر فإنه لا بد من قبولها كما مر لأنه معاوضة من جانبها كما يأتي.اهـ (باب الخلع، ج: 3، ص: 339-340-341، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الدر المختار أيضا: (و) حكمه أن (الواقع به) ولو بلا مال (وبالطلاق) الصريح (على مال طلاق بائن) إلخ (باب الخلع، ج: 3، ص: 444، ط: إيج إيم سعيد)
وفي رد المحتار: وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه. اهـ (باب صريح الطلاق، ج: 3، ص: 247، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الدر المختار أيضا: (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) اهـ (باب الرجعة، مطلب في العقد على المبانة، ج: 3 ص: 409، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الهندية: إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها إلخ (كتاب الطلاق، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: 1، ص: 472، ط: مكتبة ماجدية)