کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ آج سے تین ماہ پہلے 8 نومبر کو میرے اور میرے شوہر کے درمیان کسی بات پر لڑائی ہوئی، جس میں شوہر نے مجھے اور بچوں کو مارا اور مجھے کہا کہ تم طلاق لے کر رہو گی؟ تو میں نے کہا کہ دے دو ،جس پر میرے شوہر نے کہا (زه طلاقہ شہ) جاؤ طلاق (مطلقہ ہو) پھر بھی میں نے دو بدو جواب دیا، جس سے شوہر کو مزید غصہ آیا اور مجھے مارنے کے لیے دوڑ ے، میں دوسرے کمرہ میں گئی اور دروازہ بند کر دیا، وہ دروازے کو لاتیں مارنے لگے اور غصہ میں گالیاں دینے لگے، اور غصہ میں کہا (زه طلاقہ ئے) جاؤ طلاق ہو (مطلقہ ) ہو، اس کے بعد شوہر نے کہا جاؤ گھر سے نکل جاؤ ،جو کچھ لینا چاہو ،لے لو اور جاؤ، یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی میرے شوہر نے مختلف مواقع پر غصہ میں بطور گالی مجھے "طلاقن" (طلاق يافتہ) کہا ہے، اب معلوم کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقيں واقع ہوئیں؟ اور اب ہمارے لیے کیا حکم ہے؟نيز میرے شوہر کا کہنا ہے کہ شدید غصہ کی وجہ سے اسے اپنے الفاظ یاد نہیں اور حلف اٹھاتا ہے کہ اس کی نیت طلاق کی نہیں تھی۔
واضح ہو کہ غصہ کی حالت میں بلا نیت اور بطور گالی بھی صریح الفاظ میں طلاق دینے سےطلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں جب سائلہ کے شوہر نے غصہ میں آ کر طلاق کے صریح الفاظ کے ساتھ پہلی مرتبہ اپنی بیوی کو بطور گالی "طلاقن" (طلاق يافتہ) كہا تو اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی تھی، جس کے بعد اگر اس نے دوباره يہ الفاظ کہے ہوں اور پہلى والى طلاق مراد لى ہو تو مزيد كوئى طلاق واقع نہ ہوگى ، البتہ حاليہ لڑائى جھگڑے کے دوران شوہر نے بیوی کو جب یہ کہا کہ (زه طلاقہ شہ) جاؤ طلاق (مطلقہ ہو جاؤ) پھر اس کے بعد (زه طلاقہ ئے) جاؤ طلاق ہو (مطلقہ ) ہو کہا تو اس سے دو مزید طلاقیں واقع ہو کر کل تین طلاقوں کے ساتھ سائلہ مغلظہ ہو چکی ہے ،اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شریعہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ہے، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحد گی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
كما في القران: ﴿فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۗ وَتِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ﴾ [البقرة: 230]
وفي الحديث: عن عائشة رضي الله عنها، «أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول.». [صحيح البخاري رقم الحديث (٥٢٦١)]
وفي الدر المختار: ولو قال لها: كوني طالقا أو اطلقي أو يا مطلقة بالتشديد وقع.
وفي رد المحتار تحت قوله: كوني طالقا أو اطلقي) قال في الفتح عن محمد: إنه يقع لأن كوني ليس أمرا حقيقة لعدم تصور كونها طالقا منها بل عبارة عن إثبات كونها طالقا كقوله تعالى {كن فيكون} [يس: 82] ليس أمرا بل كناية عن التكوين وكونها طالقا يقتضي إيقاعا قبل فيتضمن إيقاعا سابقا … وتحت قوله: (أو يا مطلقة) قدمنا أنه لو كان لها زوج طلقها قبل فقال أردت ذلك الطلاق صدق ديانة وكذا قضاء في الصحيح وفي. التتارخانية عن المحيط قال: أنت طالق ثم قال يا مطلقة لا تقع أخرى [ط: سعيد، (3/ 255)]
وفي بدائع الصنائع: ولو قال: يا مطلقة وقع عليها الطلاق؛ لأنه وصفها بكونها مطلقة ولا تكون مطلقة إلا بالتطليق، فإن قال: أردت به الشتم لا يصدق في القضاء؛ لأنه خلاف الظاهر؛ لأنه نوى فيما هو وصف أن لا يكون وصفا فكان عدولا عن الظاهر فلا يصدقه القاضي، ويصدق فيما بينه وبين الله تعالى؛ لأنه قد يراد بمثله الشتم. [(3/ 101)]
وفي الفتاوى الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير. [(1/ 473)]
وفي الدر المختار: (وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث «لعن المحلل والمحلل له» (بشرط التحليل) كتزوجتك على أن أحللك (وإن حلت للأول) ... (أما إذا أضمر ذلك لا) يكره (وكان) الرجل (مأجورا) لقصد الإصلاح، وتأويل اللعن إذا شرط الأجر ذكره البزازي. [(3/ 415)]