میرے بھائی نے ایک لڑکی سے نکاح کیا، نکاح سے پہلے ہی لڑکی کے گھر والوں نے اس سے اخراجات مانگنا شروع کر دیے ، جو میرے بھائی نے پورے بھی کیے، کچھ مہینوں بعد لڑکی کی ٹک ٹاک ویڈیوز دیکھ کر اس کا دل خراب ہو گیا، ابھی رخصتی نہیں ہوئی ہے اور وہ طلاق دینا چاہتا ہے، لڑکے کے گھر والے حقِ مہر کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں، حقِ مہر میں 5000 روپے مہرِ معجّل اور دو تولہ سونا مہرِ مؤخر لکھا گیا ہے،رخصتی کے بغیر حقِ مہر کے بارے میں کیا حکم ہے؟
میاں بیوی کے درمیان اگر نکاح کے بعد رخصتی یا خلوتِ صحیحہ واقع نہ ہوئی ہو، یعنی ایسی تنہائی میں ملاقات کا موقع میسر نہ آیا ہو ،جس میں ہمبستری کرنے میں کوئی شرعی رکاوٹ نہ ہو تو ایسی صورت میں اگر شوہر طلاق دے تواس کے ذمہ عقد نکاح کے وقت طےشدہ حق مہر میں سے صرف آدھے مہر کی ادائیگی لازم ہوتی ہے۔
کمافی الدر لامختار: (و) يجب (نصفه بطلاق قبل وطء أو خلوة) فلو كان نكاح على ما قيمته خمسة كان لها نصفه ودرهمان ونصف (وعاد النصف إلى ملك الزوج،الخ (کتاب النکاح،باب المھر،ج3،ص104،ط:ایچ ایم سعید)-