السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
جناب عالی !گزارش یہ ہے کہ میری بیوی سے میری لڑائی ہوگئی ، میرے بچے میرے مدِ مقابل آگئے ، میں نے غصے میں کہا کہ آخر تو نے میرے بچوں باپ کے سامنے لا کھڑا کیا ،ابھی تجھے بتاتے ہیں،بچے مجھ سے بدتمیزی کرنے لگے،اور میری بیوی بھاگ کر میری بہن کے گھر چلی گئی،ہم بہن کے گھر غصے کی حالت میں پہنچے، بہن سے منہ ماری ہوئی،اتنے میں کمرے کا دروازہ کھلا،دروازہ کھلتے ہی میں نے بغیر دیکھے اپنی بیوی کو کہا کہ میں نے تمہیں طلاق دی ،تین دفعہ،پھر ہم گھر آگئے ،اچھا ایک اور بات کہ دروازہ آدھا کھلا ہوا تھا،اور میں نے اپنی بیوی کی شکل بھی نہیں دیکھی ،تقریباًدو سیکنڈ بھی نہیں لگے مجھے، نگاہیں میری نیچے تھیں ،اب مجھے اس بات کی فکر ہے کہ میری چار بیٹیاں ہیں ،ان کی شادی کا کیا ہوگا؟مجھے آپ کی رہنمائی چاہیے (طلاق میں 2025/12/12کو دی)۔
واضح ہوکہ وقوع طلاق کے لئے بیوی کا سامنے موجود ہونا یا ان کا الفاظ طلاق سننا شرعاًضروری نہیں ،بلکہ اس کے بغیر بھی طلاق کے الفاظ بول دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا صورت مسؤ لہ میں سائل نے جب اپنی بیوی کو غصے کی حالت میں مذکور الفاظ " میں نے تمہیں طلاق دی“ تین مرتبہ بول دئیے ،تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا ،اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ،اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ،جبکہ عورت ایامِ ِعدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
اورحلالۂ شرعیہ یہ ہےکہ عورت اپنےشوہرسےعلیحدگی اورعدتِ طلاق گزارنےکےبعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرےمسلمان شخص سےنکاح کرےاور حقوقِ زوجیت اداکرے،چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جو کہ حلالہ شرعیہ کےتحقق کےلیےضروری ہے)کےفوراً بعد یا پھرازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدے،یابیوی سے پہلےشوہرکا انتقال ہوجائے،بہرصورت اس کی عدت گزارنےکےبعداگروہ پہلےشوہرکےنکاح میں آناچاہے، اورپہلاشوہربھی اس کو رکھنےپررضامندہو،تونئے مہرکےتقرر کےساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب وقبول کرتے ہوئےعقدِنکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کےساتھ کرناکہ زوج ثانی بیوی کو نکاح کےبعدطلاق دےگا،تاکہ وہ زوج اول کےلیےحلال ہوجائےمکروہ تحریمی ہے،جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،البتہ بغیرکسی شرط کےا س کےساتھ نکاح کرنابلاشبہ جائزاوردرست ہے۔
قال اللہ تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الایة(سورۃ البقرہ:آیت نمبر:230)۔
وفي الهداية شرح البداية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها والأصل فيه قوله تعالى { فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره } فالمراد الطلقة الثالثة اھـ (ج :2ص 10/الناشر المكتبة الإسلامية)۔
و في الفتاوى الهندية: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا اھ (ج1/ص 355/ الناشر دار الفكر)۔
وفیھا ایضاً: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ(ج1/ص 355/ الناشر دار الفكر)۔
وفی تنویرالابصار:ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل ولوعبدااومکرھا اوھازلا اوسفیھا او سکرانا اھ (كتاب الطلاق، جلد:3، صفحه:235، طبع:سعید)۔
وفی الشامیہ: ركن الطلاق(قوله: و ركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية اھ (كتاب الطلاق، جلد:3،صفحه:230ِ، طبع:سعید)۔