اگر صرف نکاح ہوا ہو رخصتی کے بغیر،
مگرلڑکا لڑکی اور لڑکے اور لڑکی کے گھر والے دونوں راضی ہوں اب طلاق کے لیے ،مگر لڑکے کے گھر والے کاغذات بنوا کے دینے سے منع کر دیں تو کیا کرنا چاہیے ؟
لڑکے کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ خود کاغذات بنوا کے دے دو ،ہم لڑکے سے دستخط کروا دیں گے
اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟
اور مہر کا کیا حکم ہو گا؟
ہمارے لیے خلع لینا زیادہ صحیح ہے یا پھر طلاق؟ اور کیا لڑکی والے طلاق کے کاغذات بنوا سکتے ہیں اس طرح؟
صورت مسئولہ میں اگر ہر دو خاندان مذکور لڑکا ولڑکی کے درمیان یہ رشتہ ختم کرنے پر راضی ہوں، تو لڑکی والوں کی جانب سے طلاق کے کاغذات بنوانے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ، اور لڑکے کی جانب سے ان کاغذات پر دستخط کرنے سے بھی لڑکا و لڑکی کے درمیان نکاح ختم ہوجائے گا ، اور طلاق کی صورت میں لڑکی طے شدہ مہر میں سے آدھے مہر کی حقدار ہوگی، بشرطیکہ نکاح کے بعد لڑکا اورلڑکی کے درمیان خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہو ، جبکہ حق مہر کی معافی کے عوض خلع لینے کی صورت میں لڑکی مہر کی حقدار نہ ہوگی۔
کما فی الدر المختار مع التنویر الابصار: وشرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق،اہ (کتاب الطلاق، ج: ٣، ص: ٢٢٧، مط: سعيد)
وفي الشامية: فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته.(الى قوله) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو، اه (باب في الطلاق بالكتابة، ج:٣،ص: ٢٤٦، مط: سعيد)
وفي الهداية: وإن طلقها قبل الدخول بها والخلوة فلها نصف المسمى" لقوله تعالى: {وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن} [البقرة: 237] الآية، والأقيسة متعارضة ففيه تفويت الزوج الملك على نفسه باختياره وفيه عود المعقود عليه إليها سالما فكان المرجع فيه النص وشرط أن يكون قبل الخلوة لأنها كالدخول عندنا على ما نبينه إن شاء الله تعالى، اه(باب المهر، ج: ١، ص: ١٩٩، مط: دار احياء التراث العلمي)
وفی الہندیۃ: فإن طلقها قبل الدخول والخلوة فلها المتعة (الی قولہ) المتعة ثلاثة أثواب) قميص وملحفة ومقنعة وسط لا جيد غاية الجودة ولا رديء غاية الرداءة كذا في المحيط هذا في عرفهم. وأما في عرفنا فيعتبر عرفنا، كذا في الخلاصة.اہ (باب المہر، ج: ١،ص: ٣٠٤، مط: ماجدية )
وفي الهندية: إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية.اه (الباب الثامن في الخلع، ج:١ ص: ٤٨٨، مط: ماجدية )