اگر ایک مرد فوت ہو جاتا ہے اور اس کی بیٹیاں ہی ہیں، بیٹا کوئی نہیں، اور اس مرد نے اپنی ذاتی کمائی سے کوئی پلاٹ وغیرہ بنایا ہو یا کچھ چیزیں جیسے بائیک وغیرہ اس کی ذاتی ہیں اور اسی کے نام پہ ہیں، تو اس مرد کی بیوی اور بیٹیوں کے علاوہ کیا اس مرد کے بھائی بھی ان چیزوں میں حصہ دار ہوں گے؟
واضح ہو کہ کسی شخص کے انتقال کے وقت اس کی ملکیت میں موجود تمام مال و جائیداد اس کا تركہ کہلاتا ہے، خواہ یہ جائیداد اس کی ذاتی کمائی کا نتیجہ ہو یا اسے والدین سے بطور میراث ملی ہو، نىز جس شخص کی اولاد میں فقط بیٹیاں ہوں، نرینہ اولاد موجود نہ ہو، تو ایسی صورت میں اس شخص کا بھائی بطور عصبه مرحوم کے تركہ میں حسب حصص شرعی حقدار ہوگا، جس کی تفصیل ورثاء کی مکمل تعداد بتلا کر کسی بھی مستند دارالافتاء سے معلوم کی جا سکتی ہے۔
كما في الدر المختار: (والثلثان لكل اثنين فصاعدا ممن فرضه النصف) وهو خمسة البنت (إلى قوله) العصبة بنفسه وهو كل ذكر) فالأنثى لا تكون عصبة بنفسها بل بغيرها أو مع غيرها (لم يدخل في نسبته إلى الميت أنثى) (إلى قوله) (ما أبقت الفرائض) أي جنسها (وعند الانفراد يحوز جميع المال) بجهة واحدة ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (إلى قوله) (ثم جزء أبيه الأخ) لأبوين (ثم) لأب إلخ (كتاب الفرائض، ج: 6، ص: 773-774، ط: إيج إيم سعيد)