السلام و علیکم جناب!
شوہر نے اپنی بیوی کو ایک ہی وقت میں تین طلاقیں (طلاق -طلاق طلاق )دیں اور وہاں کوئی گواہ موجود نہ تھا اب وہ شوہر واپسی رجوع کرنا چاہتا ہے اور بولتا ہے کہ میں نے طلاق نہیں دی جبکہ بیوی کہتی ہے کہ اس نے تین طلاقیں ایک ساتھ دیں اور اب طلاق کو ایک سال ہو گیا ہے اس صورت میں کیا ان کا نکاح دوبارہ ہوگا یا نہیں ؟کیونکہ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ایک ساتھ تین طلاقیں دینا حرام ہے اور ایسے طلاق نہیں ہوتی اس لیے دوبارہ نکاح کر کے صلح کر لینی چاہئے کیسا کرنا شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں قران کی آیات اور حدیث اور ان کامکمل ریفرنس دے کر فتوی جاری کیا جائے آپ کی عین نوازش ہوگی۔
مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ صورت مسئولہ میں بیوی بیک وقت شوہر کے خلاف اسے تین طلاقیں دینے کا دعویٰ کررہی ہےلیکن اس کے پاس اپنے اس دعوے پر شرعی شہادت موجود نہیں ،جبکہ شوہر تین طلاقیں دینے سے انکاری ہے، اور میاں بیوی میں سے ہر ایک اپنے اپنے بیان پر حلف اٹھانے اور قبروآخرت کی جواب دہی کے لئے تیار ہے،جب ایسی صورت درپیش ہو جائے کہ بیوی تین طلاقوں کی دعویدار ہو مگر اس کے پاس شرعی شہادت موجود نہ ہو اور شوہر طلاق دینے سے انکاری ہو تو ایسی صورت میں " المراۃ کالقاضی " کے اصول کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے بیوی پر لازم ہے کہ اپنے آپ کو مطلقہ ثلاثہ سمجھے اور شوہر کو اپنے اوپر قطعاً قدرت نہ دے، تاہم یہ معاملہ اگر قاضی ( جج ) کی عدالت میں چلا جائے اور قاضی تین طلاقوں پر گواہ نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دے کر بیوی کو اس کے ساتھ روانہ کردے ، تو ایسی صورت میں بیوی اگرچہ گناہ گار نہ ہوگی، مگر پھر بھی اُسے چاہیے کہ حتی الامکان شوہر سے طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ خلاصی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔
کما فی ردالمحتار: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله.(ج:3،ص:251،ط:سعید)
و فی الهدايۃ :وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض اھ (ج:٢، باب الرجعۃ ص:٣٩٤،مط: شركت علمية )