طلاق سے متعلق مکمل واقعہ (برائے شرعی رہنمائی)
میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر یہ بیان دے رہا ہوں تاکہ مجھے شرعی رہنمائی دی جا سکے۔
میرے والد صاحب طویل عرصہ شدید بیمار رہے۔ اس دوران میں گھر میں اکیلا مرد تھا اور تمام ذمہ داریاں میں نے اکیلے نبھائیں، جن میں والد کی تیمارداری، علاج، ہسپتال کے معاملات اور گھریلو امور شامل ہیں۔ اس دوران مجھے کسی قسم کا ذہنی یا عملی سہارا حاصل نہیں تھا، جس کی وجہ سے میں شدید ذہنی دباؤ اور نیند کی کمی کا شکار رہا۔
18 جنوری 2026 کو میرے والد صاحب کا انتقال ہوا۔ اس کے بعد غسل، کفن، جنازہ، تدفین اور دیگر تمام انتظامات میں نے اکیلے انجام دیے۔ 20 جنوری 2026 کو قل شریف ادا ہوا۔ اسی دن شام کے وقت میرے دفتر سے تقریباً دس افراد دعا کے لیے گھر آئے۔
میں نے اپنی اہلیہ سے چائے بنانے کو کہا۔ اس دوران شدید تھکن اور ذہنی دباؤ کی حالت میں مجھ سے ایک سخت جملہ نکل گیا اور میں دوبارہ مہمانوں کے پاس چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد اندر سے زور زور سے رونے اور چیخنے کی آوازیں آئیں۔ جب میں اندر گیا تو دیکھا کہ میری اہلیہ دیوار سے سر مار رہی تھیں اور بلند آواز میں یہ کہہ رہی تھیں کہ “مجھے زہر دے دو، میں مرنا چاہتی ہوں”۔
یہ صورتحال میرے لیے انتہائی صدمے کا باعث بنی۔ اس وقت میں کئی دنوں سے نیند سے محروم تھا، والد کی وفات کا تازہ صدمہ تھا اور گھر میں اچانک خودکشی جیسی کیفیت پیدا ہو گئی۔ میری بہن اور بھائی نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر مجھے روکنے کی کوشش کی، مگر میری ذہنی کیفیت اس قدر خراب تھی کہ میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا۔ اسی شدید ذہنی ہیجان اور بے قابو کیفیت میں میرے منہ سے ایک ہی وقت میں تین مرتبہ طلاق کے الفاظ نکل گئے۔ بعد میں مجھے اس بات کی بھی واضح یاد نہیں رہی کہ میں نے یہ الفاظ کس ترتیب سے کہے۔
اس وقت درج ذیل افراد موجود تھے:
میری بہن
میرا بھائی
میرا بہنوئی
میری اہلیہ کی والدہ
یہ سب اس بات کے گواہ ہیں کہ اس وقت گھر میں غیر معمولی چیخ و پکار تھی اور میری ذہنی حالت شدید اضطراب اور بے قابو پن کی تھی۔
اس واقعے کے فوراً بعد مجھے شدید ندامت اور افسوس ہوا، جو اب تک برقرار ہے۔ اس وقت سے میری صحت بھی متاثر ہے، رات کو نیند نہیں آتی اور ذہنی اذیت جاری ہے۔
میں نے اس معاملے میں اہلِ علم سے فتویٰ حاصل کیا ہے، تاہم چونکہ میری اہلیہ کے والدین کی خواہش ہے کہ معاملہ دیوبندی مکتبِ فکر کے مفتی صاحب کے سامنے رکھا جائے، اس لیے میں یہ مکمل اور سچا بیان پیش کر رہا ہوں۔
میں مؤدبانہ درخواست کرتا ہوں کہ میرے حالات، ذہنی کیفیت، صدمے اور گواہوں کی موجودگی کو مدنظر رکھتے ہوئے شرعی رہنمائی فرمائیں کہ آیا اس حالت میں کہی گئی تین طلاقیں شرعاً واقع ہوئی ہیں یا نہیں۔
والسلام
صورت مسؤلہ میں سوال میں ذکر کردہ کیفیت میں بھی اگر سائل نے اپنی بیوی کو واضح اور صریح الفاظ جیسے "میں تمھیں طلاق دیتا ہوں" وغیرہ کے ذریعے تین طلاقیں دے دی ہوں، تو اس سےاس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اورحلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، جبکہ عورت ایام عدت گزرجانے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی
کما بدائع الصنائع : وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية الی قولہ سواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدةاھ ( کتاب الطلاق ، فصل فی حکم الطلاق البائن ، ج :3 ، ص : 187 ، ط : دار الکتب العلمیۃ)
و فی الھندیہ: واذا قال لامراتہ انت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ با لشرط ان کانت مدخولۃ طلقت ثلثا وان کانت غیرمدخولۃ طلقت واحدۃ و کذا اذا قال انت طالق فطالق فطالق او ثم طالق ثم طالق او طالق طالق کذا فی السراج اھ ( الفصل الثانی فی ایقاع الطلاق ، ج : 1 ، ص : 355 ، ط : ماجدیہ )