طلاق

بیوی کو غیر مردوں سے تعلق رکھنے پر طلاق دینے کا حکم

فتوی نمبر :
91628
| تاریخ :
2026-02-02
معاملات / احکام طلاق / طلاق

بیوی کو غیر مردوں سے تعلق رکھنے پر طلاق دینے کا حکم

محترم مفتی صاحب! میری شادی کو تقریباً آٹھ (8) سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے اور اس شادی سے میرے دو بچے ہیں۔ شروع ہی سے میں نے اس رشتے کو نبھانے کی پوری کوشش کی اور ہمیشہ صبر و برداشت سے کام لیا۔میری بیوی طویل عرصے تک میرے ازدواجی حقوق ادا نہیں کرتی رہی۔ عملاً صورتِ حال یہ تھی کہ وہ مہینے میں بمشکل ایک مرتبہ میرے حقوق کا خیال رکھتی تھی، حالانکہ شرعاً یہ اس کی ذمہ داری تھی۔ اس کے علاوہ وہ معمولی اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر اکثر مجھ سے جھگڑا کرتی تھی اور بارہا مجھ سے طلاق کا مطالبہ کرتی رہی، مگر میں ہر مرتبہ بچوں اور خاندان کے مستقبل کی خاطر درگزر کرتا رہا اور رشتہ بچانے کی کوشش کرتا رہا۔حال ہی میں مجھے معلوم ہوا کہ میری بیوی نے میری اجازت اور علم کے بغیر ایک موبائل فون چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ جب میں نے وہ موبائل چیک کیا تو اس میں میری بیوی کی متعدد غیر مردوں کے ساتھ چیٹنگ، نازیبہ گفتگو اور نازیبہ ویڈیوز موجود تھیں۔ یہ تعلقات ایک مرد تک محدود نہیں تھے، بلکہ کئیں غیر مردوں سے روابط سامنے آئے، جن کے شواہد میرے پاس موجود ہیں۔ان تمام امور کی وجہ سے میرے دل میں شدید بداعتمادی، ذہنی اذیت اور نفرت پیدا ہو چکی ہے اور اب میں اس ازدواجی رشتے کو مزید جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا۔براہِ کرم شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں درج ذیل امور پر رہنمائی فرمائیں:کیا میری بیوی کے غیر مردوں سے چیٹنگ، نازیبہ گفتگو اور ویڈیوز شرعاً کبیرہ گناہ کے زمرے میں آتے ہے؟ اور کیا یہ افعال زنا شمار ہوتے ہیں یا زنا سے کم درجے کا گناہ ہیں؟ایسی صورتِ حال میں شوہر کے لیے شرعی حکم کیا ہے؟ کیا نکاح برقرار رکھنا لازم ہے یا طلاق دینا جائز، بلکہ بہتر ہے؟
چونکہ میرے دو بچے ہیں، اگر میں بیوی کو طلاق دے دیتا ہوں تو کیا شریعت مجھے بچوں کو ماں سے ملنے سے روکنے کی اجازت دیتی ہے، یا ایسا کرنا شرعاً ناجائز ہوگا؟اگر میں ان حالات کی بنیاد پر بیوی کو طلاق دیتا ہوں، تو کیا میں حقِ مہر ادا کرنے کا شرعاً پابند ہوں گا؟
طلاق دینے کا درست شرعی طریقہ کیا ہے؟ ایک طلاق اور تین طلاق میں کیا فرق ہے؟ اور اگر ایک ہی وقت میں تحریری طور پر تین طلاقیں دے دی جائیں تو کیا وہ تینوں نافذ ہو جاتی ہیں یا ایک طلاق شمار ہوتی ہے؟براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں واضح رہنمائی فرمائیں، تاکہ میں کسی شرعی غلطی کا مرتکب نہ ہوں۔جزاکم اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگرواقعۃً بیوی کا غیرمحرم مردوں سے نازیبا چیٹنگ، فحش گفتگو اور ویڈیوز کا تبادلہ ثابت ہو ،محض شک وشبہ اور بدگمانی نہ ہو تو اس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوئی ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدق دل توبہ وہ استغفار اور آئندہ دوبارہ اس قسم کی ناجائز حرکات سے مکمل اجتناب کرتے ہوئے شوہر سے بھی دست بستہ معافی مانگے، چنانچہ اگر وہ اپنی غلطی پر صدق دل سے نادم ہو کر اللہ تعالی کے حضور معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ سائل سے بھی معافی مانگ لے اور سائل کو بھی اس کی توبہ پر اعتماد ہو تو ایسی صورت میں سائل کو وسعت ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو ایک دفعہ معاف کر دینا چاہیے اور اس معاملہ کو صیغہ راز میں رکھنا چاہیے، تا ہم اگر وہ عادی مجرم ہو اور دوبارہ اس قسم کی ناجائز حرکات کی مرتکب پائی جائے تو ایسی صورت میں سائل اس کو طلاق دے کر اپنی زوجیت سے علیحدہ بھی کر سکتا ہے اور اس صورت میں وہ گناہ گار بھی نہ ہوگا، البتہ طلاق دینے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ایک طلاقِ رجعی ایسے طُہر میں دی جائے جس میں اس طہر کے دوران صحبت نہ کی گئی ہو۔ ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دینا خلافِ سنت اور گناہ ہے، اور تحریری یا زبانی طور پر تین طلاقیں ایک ساتھ دینے سے تینوں واقع ہوجاتی ہیں۔ لہٰذااس معاملہ میں بہتریہی ہے کہ جلد بازی کے بجائے باہمی اصلاح، بچوں کے مستقبل اور شرعی حدود کو پیشِ نظر رکھا جائے، جبکہ طلاق کی صورت میں بچوں کو بلا وجہ ان کی ماں سے ملنے سے روکنا جائز نہیں۔ نیزمہر اگر شوہر (سائل) کے ذمہ باقی ہو تو طلاق کے باوجود اس کی ادائیگی لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

كما قال الله تعالى: وَٱلَّٰتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهۡجُرُوهُنَّ فِي ٱلۡمَضَاجِعِ وَٱضۡرِبُوهُنَّۖ فَإِنۡ أَطَعۡنَكُمۡ فَلَا تَبۡغُواْ عَلَيۡهِنَّ سَبِيلًاۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيّٗا كَبِيرٗا ٣٤ وَإِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَيۡنِهِمَا فَٱبۡعَثُواْ حَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهِۦ وَحَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهَآ إِن يُرِيدَآ إِصۡلَٰحٗا يُوَفِّقِ ٱللَّهُ بَيۡنَهُمَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرٗا ٣٥ (سورة النساء: 34-35)
وفي تفسير ابن كثير: قال تعالى: "واللاتي تخافون نشوزهن فعظوهن"، وقوله: "واهجروهن في المضاجع" قال علي بن أبي طلحة، عن ابن عباس: الهجر هو أن لا يجامعها، ويضاجعها على فراشها ويوليها ظهره، وكذا قال غير واحد. وزاد آخرون منهم السدي والضحاك وعكرمة وابن عباس في رواية: ولا يكلمها مع ذلك ولا يحدثها، وقال علي بن أبي طلحة أيضا، عن ابن عباس: يعظها فإن هي قبلت وإلا هجرها في المضجع، ولا يكلمها من غير أن يذر نكاحها، وذلك عليها شديد (إلى قوله) وقوله: {واضربوهن} أي: إذا لم يرتدعن بالموعظة ولا بالهجران، فلكم أن تضربوهن ضربا غير مبرح، كما ثبت في صحيح مسلم عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال في حجة الوداع: "واتقوا الله في النساء، فإنهن عندكم عوان، ولكم عليهن أن لا يوطئن فرشكم أحدا تكرهونه، فإن فعلن ذلك فاضربوهن ضربا غير مبرح، ولهن عليكم رزقهن وكسوتهن بالمعروف.اهـ (سورة النساء، ج: 3، ص: 96، ط: دار ابن الجوزي للنشر والتوزيع - السعودية)
وفي صحيح البخاري: عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: لم أر شيئا أشبه باللمم من قول أبي هريرة.وحدثني محمود: أخبرنا عبد الرزاق: أخبرنا معمر، عن ابن طاوس، عن أبيه، عن ابن عباس قال: ما رأيت شيئا أشبه باللمم مما قال أبو هريرة،عن النبي صلى الله عليه وسلم: (إن الله كتب على ابن آدم حظه من الزنا، أدرك ذلك لا محالة، فزنا العين النظر، وزنا اللسان المنطق، والنفس تتمنى وتشتهي، والفرج يصدق ذلك كله أو يكذبه.اهـ (باب زنا الجوارح درن الفرج، ج: 5، ص: 2304، الرقم: 5889، ط: دار ابن كثير، دار اليمامة - دمشق)
وفيه أيضا: و قال الليث: حدثني نافع، قال : كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: "لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه و سلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك" إلخ ( کتاب الطلاق، باب من قال لامرأته أنت علي حرام،ج: 5، ص: 2015، ط: دار ابن کثیر دار اليمامة - دمشق)
وفي بدائع الصنائع: ولأن الاستمتاع بالدواعي وسيلة إلى القربان والوسيلة إلى الحرام حرام أصله الخلوة وهذا أولى.اهـ (كتاب الاستحسان، ج: 5، ص: 120، ط: إيج إيم سعيد)
وفي رياض الصالحين: قال العلماء: التوبة واجبة من كل ذنب، فإن كانت المعصية بين العبد وبين الله تعالى لا تتعلق بحق آدمي، فلها ثلاثة شروط: أحدها: أن يقلع عن المعصية.والثاني: أن يندم على فعلها.والثالث: أن يعزم أن لا يعود إليها أبدا. فإن فقد أحد الثلاثة لم تصح توبته.اهـ (باب التوبة، ص: 33، ط: مؤسسة الرسالة، بيروت، لبنان)
وفي الدر المختار: (وقيل) قائله الكمال (الأصح حظره) (أي منعه) (إلا لحاجة) كريبة وكبر والمذهب الأول كما في البحر وقولهم الأصل فيه الحظر، معناه أن الشارع ترك هذا الأصل فأباحه، بل يستحب لو مؤذية أو تاركة صلاة غاية.إلخ (ج: 3، ص: 227-228-229، ط: إيج إيم سعيد)
وفی رد المحتار: تحت (قوله وقولهم إلخ) وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل، بل هي أعم كما اختاره في الفتح، فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر، ولهذا قال تعالى {فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: 34] أي لا تطلبوا الفراق. إلخ (کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 228، ط: إیچ إیم سعید)
وفي الدر المختار أيضا: (طلقة) رجعية (فقط في طهر لا وطء فيه) وتركها حتى تمضي عدتها (أحسن) بالنسبة إلى البعض الآخر. إلخ
وفي رد المحتار: (قوله رجعية) فالواحدة البائنة بدعية في ظاهر الرواية (إلى قوله) (قوله في طهر) هذا صادق بأوله وآخره وقيل والثاني أولى احترازا من تطويل العدة عليها وقيل الأول قال في الهداية وهو الأظهر من كلام محمد نهر واحترز به عن الحيض فإنه فيه بدعي كما يأتي (إلى قوله) (قوله وتركها حتى تمضي عدتها) معناه الترك من غير طلاق آخر لا الترك مطلقا لأنه إذا راجعها لا يخرج الطلاق عن كونه أحسن بحر.اهـ (کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 231، ط: إیچ إیم سعید)
وفي الدر المختار أيضا: (والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين) في طهر واحد (لا رجعة فيه، أو واحدة في طهر وطئت فيه، أو) واحدة في (حيض موطوءة).اهـ
وفي رد المحتار: (قوله والبدعي) منسوب إلى البدعة والمراد بها هنا المحرمة لتصريحهم بعصيانه (قوله ثلاثة متفرقة) وكذا بكلمة واحدة بالأولى (إلى قوله) وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث. (إلى قوله) أما أولا فإجماعهم ظاهر لأنه لم ينقل عن أحد منهم أنه خالف عمر حين أمضى الثلاث، (إلى قوله) وقد ثبت النقل عن أكثرهم صريحا بإيقاع الثلاث ولم يظهر لهم مخالف (إلى قوله) وعن هذا قلنا لو حكم حاكم بأنها واحدة لم ينفذ حكمه لأنه لا يسوغ الاجتهاد فيه.اهـ (ج: 3، ص: 232-233)
وفي بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل "فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره" (البقرة: 230) وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة. إلخ (كتاب الطلاق، فصل في شرائط رجوع المبتوتة لزوجها، ج: 3، ص: 187، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الدر المختار: وفي الحاوي: له إخراجه إلى مكان يمكنها أن تبصر ولدها كل يوم كما في جانبها فليحفظ. قلت: وفي السراجية: إذا سقطت حضانة الأم وأخذه الأب لا يجبر على أن يرسله لها، بل هي إذا أرادت أن تراه لا تمنع من ذلك. إلخ
وفي رد المحتار: ويؤيده ما في التتارخانية: الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعهده. اهـ. ولا يخفى أن السفر أعظم مانع. (قوله: كما في جانبها) أي كما أنها إذا كان الولد عندها لها إخراجه إلى مكان يمكنه أن يبصر ولده كل يوم. (كتاب الطلاق، باب النفقة، ج: 3، ص: 571، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الدر المختار: (وتجب) العشرة (إن سماها أو دونها و) يجب (الأكثر منها إن سمى) الأكثر ويتأكد (عند وطء أو خلوة صحت) من الزوج (أو موت أحدهما) أو تزوج ثانيا في العدة.اهـ
وفي رد المحتار: (قوله ويتأكد) أي الواجب من العشرة لو الأكثر وأفاد أن المهر وجب بنفس العقد لكن مع احتمال سقوطه بردتها أو تقبيلها ابنه أو تنصفه بطلاقها قبل الدخول، وإنما يتأكد لزوم تمامه بالوطء ونحوه ظهر أن ما في الدرر من أن قوله عند وطء متعلق بالوجوب غير مسلم كما أفاده في الشرنبلالية: قال في البدائع: وإذا تأكد المهر بما ذكر لا يسقط بعد ذلك، وإن كانت الفرقة من قبلها لأن البدل بعد تأكده لا يحتمل السقوط إلا بالإبراء كالثمن إذا تأكد بقبض المبيع. اهـ (باب المهر، ج: 3، ص: 102، ط: إيج إيم سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91628کی تصدیق کریں
0     22
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 7
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 3
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات