محترم مفتی صاحب / دارالافتاء،
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
گزارش ہے کہ درجِ ذیل معاملے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔ میں پورا واقعہ لفظ بہ لفظ اور سچائی کے ساتھ بیان کر رہا ہوں:میری اہلیہ (نام: میمونہ) میرے والدین کے ساتھ الگ رہنے کے مسئلے پر ناراض ہو کر اپنی والدہ کے گھر چلی گئیں۔ میں نے فون پر انہیں بہت سمجھایا کہ وہ واپس آ جائیں، لیکن وہ نہیں مانیں۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ: “ہم الگ ہیں” یعنی یہ وضاحت کی کہ نکاح برقرار ہے، مگر وہ والدین کے گھر ہیں اور میں اپنے گھر پر ہوں۔اس پر میں نے سوالیہ انداز میں کہا:“اس سے تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا؟” انہوں نے جواب دیا: “ان لوگوں (یعنی آپ کے والدین) کے ہوتے ہوئے مجھے فرق نہیں پڑتا۔” اس پر میں نے غصے اور شدید ذہنی دباؤ کی حالت میں، اسی فون کال کے دوران، ایک ہی جملہ کہا: “اگر تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا تو میں نے تمہیں تین طلاق دی۔”
وضاحت یہ ہے کہ: یہ جملہ میں نے معلّق (شرط کے ساتھ) اور منوانے کے ارادے سے کہا تھا، میرا طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، مقصد صرف یہ تھا کہ وہ کہہ دیں کہ “فرق پڑتا ہے” اور بات ختم ہو جائے، میں نکاح توڑنا نہیں چاہتا تھا، بلکہ رشتہ بچانا چاہتا تھا، میں ہوش و حواس میں تھا، بات مجھے یاد ہے، مگر شدید غصے اور پریشانی میں تھا۔ میں یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس جملے کے بعد اہلیہ کی طرف سے کوئی نیا جواب نہیں آیا، بلکہ ان کا یہی مؤقف پہلے سے تھا کہ “فرق نہیں پڑتا”۔
محترم مفتی صاحب! براہِ کرم درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی فرمائیں:
1. کیا میرا یہ جملہ “اگر تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا تو میں نے تمہیں تین طلاق دی” شرعاً "طلاقِ معلّقِ صریح" میں شمار ہوتا ہے یا محض دھمکی/منوانے کے زمرے میں؟
2. کیا اس صورت میں شرط (یعنی “فرق نہ پڑنا”) شرعاً پوری سمجھی جائے گی یا نہیں؟
3. اگر طلاق واقع ہوتی ہے تو: کیا وہ ایک طلاق شمار ہوگی یا تین؟ اور کیا رجوع یا نکاح کی کوئی شرعی صورت باقی رہتی ہے؟
میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر عرض کر رہا ہوں کہ میرا مقصد طلاق نہیں تھا، اور میں آپ کی دیانت دارانہ شرعی رہنمائی کا طالب ہوں۔جزاکم اللہ خیراً
سائل کی جانب سے بیوی کے جواب پر جواب دیتے ہوئے مذکور جملہ "اگر تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا تو میں نے تمہیں تین طلاق دی" سے تعلیق طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ فی الفور سائل کی بیوی پر طلاق واقع ہو گئی تھی اور چونکہ سائل نے اپنے جملہ میں تین طلاق کا لفظ ادا کیا تھا تو تین کا عدد بولنے سے تین ہی طلاقيں واقع ہوتی ہیں ، چنانچہ صورت مسئولہ میں سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوگئی ہے، لہذا اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھى نہيں ہوسکتا ۔ لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فورا ایک دوسرے سےعلیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے،جبکہ عورت ایامِ عدت گزار نے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
كما في القران الكريم: ﴿فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ﴾ [سورة البقرة: 230]
وفي صحيح البخاري: عن عائشة رضي الله عنها، «أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول. اهـ [كتاب الطلاق، باب من أجاز طلاق الثلاث، رقم الحديث (٥٢٦١) ج:7 ص: 43 ط: بالمطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر المحمية سنة 1311 ه]
وفي الشامية: نعم صرحوا في الأيمان بأنه لو حلف على ماض أو حال يظن نفسه صادقا لا يؤاخذ فيها إلا في ثلاث: طلاق وعتاق ونذر اهـ [كتاب الطلاق، باب التعليق، ج:3 ص:369 ط: ايچ ايم سعيد)]
وفي شرح مختصر الطحاوي للجصاص: قال: (ولو قال لامرأته: أنت طالق إن شئت، فقالت: قد شئت، إن كان كذا لشيء ماض: وقع) لأنه موقع في الحال؛ لأن الماضي لا تنعقد به اليمين، وإنما هو الإيقاع في الحال، إذ كانت الأيمان إنما تنعقد على شروط مستقبلة، وما علقه بفعل ماض فليس بيمين، وإنما هو إيقاع في الحال. [كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، ج:5 ص:95 ط: دار البشائر الإسلامية)]
وفي الهداية: وطلاق البدعة أن يطلقها ثلاثا بكلمة واحدة أو ثلاثا في طهر واحد فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا اهـ [كتاب الطلاق، باب طلاق السنة، ج:1 ص:221 ط: دار إحياء التراث العربي بيروت)]
وفي الدر المختار: [فروع] كرر لفظ الطلاق وقع الكل اهـ [كتاب الطلاق، مطلب الطلاق يقع بعدد قرن به لا به، فروع، ج:3 ص:293 ط: ايچ ايم سعيد)]
وفي الفتاوى الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير. اهـ [الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1 ص: 473 ط: رشيدية)]