شوہر نے بیوی سے کہا: ”تم اپنے ماں باپ کے گھر جا رہی ہو، اگر رات کو وہیں رُک گئی تو میری طرف سے ایک قبول کر لینا“ اس نے لفظِ طلاق استعمال نہیں کیا، لیکن ”ایک قبول کر لینا“کہا،جاتے وقت دوبارہ بھی کہا کہ میں نے جو کہا ہے وہ یاد رکھنا، اس کے بعد بیوی رات کو اپنے ماں باپ کے گھر رُک گئی، کیا اس طرح طلاق واقع ہو گئی؟
صورتِ مسئولہ میں شوہر نے مذکور جملہ” اگر رات کو وہیں رُک گئی تو میری طرف سے ایک قبول کر لینا“ اگر بیوی کو طلاق دینے کی نیت سے کہاہوں ،اوراس کے بعد بیوی نے میکے میں رات بھی گزاری ہو،تو اس سے بیوی پر ایک طلاق واقع ہوچکی ہے،اور عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
کمافی خلاصۃ الفتاویٰ: وفی الفتاویٰ رجل قال لامراتہ" ترا یکی، وترا سہ او قال تو یکی تو سہ" قال ابو القاسم الصفار رحمہ اللہ یقع اذا نوی قال وبہ یفتی ، قال القاضی رحمہ اللہ وینبغی ان یکون الجواب علی التفصیل ان کان ذالک فی حالۃ مذاکرۃ الطلاق او فی حال الغضب یقع الطلاق وان لم یکن لا یقع الا بالنیۃ کما قال بالعربیۃ "انت واحدۃ" الخ(کتاب الطلاق، ج 2، ص 98، ط: رشیدیہ)-
وفی الھندیۃ: تطلق واحدۃ رجعیۃ فی اعتدی واستبرئی رحمک وانت واحدۃ فلا یقع فی ھذہ الثلاثۃ الا واحدۃ رجعیۃ ولو نویٰ ثلاثا او ثنتین الخ(کتاب الطلاق، الفصل الخامس فی الکنایات، ج 1، ص 375، ط: ماجدیہ)-