السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے، میں اپنے ازدواجی مسئلے کے بارے میں شرعی رہنمائی حاصل کرنا چاہتی ہوں ،تاکہ میں ایسا فیصلہ کر سکوں جو اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو۔
میں ایک شادی شدہ عورت ہوں اور میرے بچے بھی ہیں، میرے اور میرے شوہر کے درمیان طویل عرصے سے شدید مسائل چل رہے ہیں جس کی وجہ سے میں اس وقت اپنے والدین کے گھر رہ رہی ہوں، میرے شوہر کا رویہ میرے ساتھ سخت اور تکلیف دہ رہا ہے، وہ شراب نوشی کرتے ہیں، ناجائز تعلقات میں ملوث رہے ہیں اور کئی مرتبہ مجھ پر ایسے ازدواجی افعال کے لیے دباؤ ڈالا جو شرعی حدود اور فطری تعلق کے خلاف ہیں، جسے میں نے ہمیشہ انکار کیا، ان حالات کی وجہ سے میرے لیے ان کے ساتھ ازدواجی زندگی جاری رکھنا ذہنی اور جذباتی طور پر ممکن نہیں رہا،ابھی تک ہمارے درمیان نہ طلاق ہوئی ہے اور نہ خلع کا باقاعدہ عمل مکمل ہوا ہے، میرے شوہر کبھی کبھار بچوں سے ملنے آتے ہیں، میرے والدین اور بعض رشتہ دار مجھے شوہر کے گھر واپس جانے کا مشورہ دے رہے ہیں، لیکن میں اس بارے میں شدید ذہنی دباؤ اور خوف محسوس کرتی ہوں اور یہ جاننا چاہتی ہوں کہ شریعت اس بارے میں کیا رہنمائی دیتی ہے؟براہِ کرم درج ذیل سوالات کے بارے میں رہنمائی فرمائیں:
1. اگر شوہر بدکرداری، شراب نوشی اور حرام کاموں میں ملوث ہو اور بیوی کو بھی ان کاموں پر مجبور کرے تو کیا ایسی صورت میں بیوی کا علیحدہ رہنا شرعاً جائز ہے؟
2. اگر بیوی کو یقین ہو کہ وہ ایسے شوہر کے ساتھ رہ کر ازدواجی حقوق صحیح طور پر ادا نہیں کر سکتی تو کیا اس کے لیے خلع حاصل کرنا بہتر اور جائز راستہ ہے؟ اس کا درست شرعی طریقہ کیا ہے؟
3. ایسی صورت حال میں بچوں کی پرورش اور ملاقات کے بارے میں شریعت کیا رہنمائی دیتی ہے؟
4. کیا بیوی کو ایسے حالات میں مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ شوہر کے گھر واپس جائے؟
میری نیت یہ ہے کہ میں ایسا فیصلہ کروں جو شریعت کے مطابق ہو اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔،براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً،والسلام
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو بایں طور کہ اگرواقعۃً سائلہ کا شوہربدکردارہواورناجائز وحرام کاموں ،مثلاً شراب نوشی وغیرہ میں ملوث ہو تو اس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گا ر ہوا ہے،اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس گناہ پر بصدق دل توبہ واستغفار کرے اوران جائزوحرام کاموں سے کنارہ کشی اختیارکرے ،چنانچہ اگروہ خودکوسنوارنے اوراصلاح کاعزم مصمم کرلے توسائلہ کو علیحدگی اختیارکرنے کی بجائے اپناگھربچانے کوترجیح دینی چاہیےاور حکمت وبصیرت کے ساتھ شوہرکوراہ راست کی تلقین کرتی رہے، لیکن اگرسائلہ کاشوہرغلط کاریوں سے بازآنے اوراپنارویہ درست کرنے پرآمادہ نہ ہواورسائلہ کو اس بات کا یقین ہوجائے کہ اب کسی بھی صورت میں حدود اللہ پر قائم رہتے ہوئےاس رشتہ کو برقرار ر کھنا ممکن نہیں رہا تو اس کا بہترین طریقہ تو یہ یہی ہے کہ وہ شوہر کو سمجھا بجھا کر طلاق دینے پر آمادہ کرے ، ایسی صورت میں شوہر کو بھی یہی چاہیے کہ جب وہ نکاح کے رشتے کو خوشگواری کے ساتھ نبھاتا نہ دیکھے اور یہ محسوس کرے کہ اب رشتہ دونوں کے لیے ناقابلِ برداشت اور دشوارہے تو وہ قرآنی حکم ”تسریح بالاحسان“ پرعمل کرتے ہوئے سائلہ کوایک طلاق دے کر چھوڑ دے، تاکہ وہ عدت گزرنے کے بعد جہاں چاہے نکاح کر سکے، لیکن اگر شوہر اس بات پر راضی نہ ہو تو چونکہ شریعت نے عورت کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ شوہر کو کچھ مالی معاوضہ پیش کر کے اسے آزاد کرنے پر آمادہ کر سکتی ہے جسے اصطلاح ِشرع میں ”خلع“ کہا جاتا ہے، عموماً اس غرض کے لیے عورت مہر معاف کر دیتی ہے اور شوہر اسے قبول کر کے بیوی کو آزاد کر دیتا ہے، تاہم یہ باہمی معاملہ ہے جو فریقین کی رضامندی پر موقوف ہے، لہذا کوئی فریق دوسرے کو اس پر مجبور نہیں کر سکتا ، نہ شوہر کو یہ حق ہے کہ وہ بیوی کو خلع پر قانوناً مجبور کرے اور نہ بیوی کو یہ حق ہے کہ وہ شوہر سے بزورِ قانون خلع حاصل کرے،لہذامجبوری کی صورت میں سائلہ کے لیے مذکورراستہ اختیارکرنےکی گنجائش ہے۔
جہاں تک بچے کی حضانت اورپرورش کاتعلق ہے تو میاں بیوی کے درمیان طلاق او رعلیحدگی ہو جانے کی صورت میں بچہ کی عمر سات سال اور بچی کی عمر نو سال ہو جانے تک وہ ماں کی پرورش میں رہیں گے، بشرطیکہ اس دوران بچے کی ماں اس کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرے ، ورنہ ماں کا حق پرورش ختم ہوکر بچی کی نانی،دادی،خالہ اور پھوپھی کو بالترتیب حاصل ہوگا،جبکہ دورانِ پروش بچے کی کفالت پرآنےوالےسارے ضروری اخراجات بچے کےوالدکےذمہ لازم ہونگے، اور مذکور مدّت کےبعد والد بچوں کو اپنی تحویل میں لے سکتا ہے، تاہم بہتر یہ ہے کہ والدین بچوں کے بہتر مستقبل کے خاطر اتفاقِ رائے سے ان کی پرورش کی ذمہ داری کا فیصلہ کریں ۔
کماقال اللہ تعالیٰ : وَلَا يَحِلُّ لَكُمۡ أَن تَأۡخُذُواْ مِمَّآ اٰتَيۡتُمُوهُنَّ شَيۡـًٔا إِلَّآ أَن يَخَافَآ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ، فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيمَا افۡتَدَتۡ بِهِ، تِلۡكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعۡتَدُوهَا، وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ الظَّٰلِمُونَ، (سورۃ البقرۃ، الآیۃ:229)-
وفی أحكام القرآن للجصاص: لا يجوز إيقاع الطلاق من جهتهما من غير رضى الزوج وتوكيله ولا إخراج المهر عن ملكها من غير رضاها، فلذلك قال أصحابنا: إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين، فقال أصحابنا: ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين، لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان؟ وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج فی الخلع أو فی التفريق ، الخ (سورة النساء، باب الحكمين كيف يعملان، ج 2، ص 239، ط: دار الکتب العلمیۃ بیروت)-
وفی الھندیۃ: إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية،إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع وهذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع،وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر، ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان،الخ (کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حكمه،الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه وما يتعلق به، ج 1، ص 488، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفی الشامیۃ: تحت (قوله: وشرطه كالطلاق) وهو أهلية الزوج وكون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلّقا على الملك، وأما ركنه فهو كما فی البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحّق العوض بدون القبول، الخ (کتاب النکاح، باب الخلع، ج 3، ص 441، ط: ایچ ایم سعید)-
وفی الھدایۃ: وإذا طلق الرجل إمرأته فلها النفقة والسكنى في عدتها رجعيا كان أو بائنا، الخ (کتاب الطلاق، باب النفقة، ج 2، ص 129، ط: مکتبۃ انعامیۃ)-
وفیھا أیضاً: ونفقة الصغير واجبة على أبيه وإن خالفه فی دينه، كما تجب نفقة الزوجة على الزوج وإن خالفته فی دينه، (کتاب الطلاق، باب النفقة، فصل فی نفقة الأولاد الصغار على الأب، ج 2، ص 291، ط: دار إحیاء لاتراث العربی)-
وفی الھندیۃ: المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا فی فتاوى قاضی خان، الخ (کتاب الطلاق، الباب السابع عشر فی النفقات، الفصل الثالث فی نفقة المعتدة، ج 1، ص 557، مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفیھا ایضاً: نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا فی الجوهرة النيرة، الخ (کتاب الطلاق، الباب السابع عشر فی النفقات، الفصل الرابع فی نفقة الأولاد، ج 1، ص 560، مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفی التاتارخانیۃ: أنّ الأمّ أحق بالغلام ما لم یبلغ سبع سنین أو ثمان سنین، وفی الکافی: والفتوی علی سبع سنین،الخ (کتاب الطلاق،الفصل الثلاثون،ج 5،ص 273، رقم: 7832،ط: مکتبۃ رشیدیۃ)-
وفی فتح القدیر: تحت (قوله: وعن محمدؒ أنها تدفع إلى الأب إذا بلغت حد الشهوة) وهی رواية هشام عنه، وفی غياث المفتی الاعتماد على رواية هشام عن محمد لفساد الزمان، وعن أبی يوسفؒ مثله، واختلف فی حد الشهوة ليبنى عليها أخذ الأب وثبوت حرمة المصاهرة، قالوا: بنت تسع مشتهاة، الخ (کتاب الطلاق، باب: الولد من أحق به، ج 4، ص 371-372، ط: دار الفکر، بیروت)-