میں اور میرے شوہر ہوٹل میں ڈنر کر رہے تھے۔ بات چیت ہنسی مذاق کے انداز میں ہو رہی تھی۔میں نے مذاق میں کہا”اب آپ جائیں، میں خود چلی جاؤں گی“۔میرے شوہر نے یہ سمجھا کہ میں اکیلے اپنی بہن اور بہنوئی کے گھر جانے کی بات کر رہی ہوں، کیونکہ جس ہوٹل میں ہم بیٹھے تھے وہاں سے میری بہن کا گھر بہت قریب ہے۔میرے شوہر نے پہلے یہ کہا کہ ”اگر تم یہاں سے چلی گئیں تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا“میں نے اس کے جواب میں کہاکہ میں اس اصول کو مانتی ہوں جس میں تین دفعہ طلاق بولنے سے رشتہ ختم ہو جاتا ہے“۔
اس پر میرے شوہر نے کہاکہ ”طلاق، طلاق، طلاق ، اب جاؤ۔یہ الفاظ میرے شوہر نے بالکل نارمل انداز میں کہے۔وہ نہ غصے میں تھے اور نہ ہی سنجیدہ معلوم ہو رہے تھے، بلکہ بالکل معمول کے مطابق بیٹھے رہے۔مجھے فوراً شدید گھبراہٹ اور پریشانی محسوس ہوئی۔میرے شوہر نے اگلے ہی لمحے واضح کیا کہ ان کی طلاق دینے کی بالکل نیت نہیں تھی۔انہیں یہ علم بھی نہیں تھا کہ صرف الفاظ کہنے سے بھی نکاح ختم ہو سکتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا کوئی سنجیدہ ارادہ نہیں تھا اور وہ اس بات کو عام بات ہی سمجھ رہے تھے۔میں شریعت کے مطابق یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا اس صورت میں واقعی طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں؟میری نیت صرف حقیقت اور درست شرعی حکم معلوم کرنا ہے۔
واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں جب سائلہ اور اس کے شوہر کے درمیان طلاق ہی کی بات چل رہی تھی اور پھر سائلہ کے قول ”میں اس اصول کو مانتی ہوں جس میں تین دفعہ بولنے سےرشتہ ختم ہوجاتا ہے“ کے جواب میں سائلہ کے شوہر نے تین دفعہ لفظ طلاق صریح الفاظ میں بول دیے تو چونکہ صریح الفاظ میں شرعاً نہ نیت کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی سنجیدگی کی، بلکہ بغیر نیت اور مذاق میں بولنے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ اس لئے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلَّظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں،ورنہ دونوں سخت گنہگار ہونگے،جبکہ عورت ا یام عدت گزرنے کے بعددوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
کمافی الدر المختار تحت (قوله والبدعي) منسوب إلى البدعة والمراد بها هنا المحرمة لتصريحهم بعصيانه بحر (قوله ثلاثة متفرقة) وكذا بكلمة واحدة بالأولى،ا(لی قولہ) وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.(ج:3،ص:223:،مط: ایچ ایم سعید)