السلام علیکم !
میری شادی میرے کزن کے ساتھ ہوئی تھی۔ شادی کے چھ ماہ بعد میرے اور میرے شوہر کے درمیان کچھ ناچاقی ہو گئی۔ اس کے بعد میری بڑی بہن مجھے میرے شوہر کے گھر سے لے آئیں۔ اس بات پر میرے شوہر کو بہت برا لگا اور انہوں نے مجھے ایک طلاق دے دی۔ اس وقت میں دو ماہ کی حاملہ تھی۔
طلاق کے بعد ہمارا رجوع نہیں ہوا۔ پھر میرا ایک بیٹا پیدا ہوا۔ اس کے بعد میں نے دوسری شادی نہیں کی۔ اب طلاق کو تقریباً نو سال ہو چکے ہیں اور میرا بیٹا ماشاء اللہ آٹھ سال کا ہو گیا ہے۔
اب میری اپنے سابق شوہر سے بات چیت ہوئی ہے اور دل صاف ہو گئے ہیں۔ کیا ہم دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں؟
صورت مسؤلہ میں اگر واقعتہ سائلہ کو اس کے شوہر نے فقط ایک طلاق دی ہو تو اس صورت میں سائلہ اور اس کا شوہر اگر دونوں دوبارہ ایک ساتھ رہنے پرآمادہ ہوں تو با ضابطہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ تجدید نکاح کر کے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، تاہم آئندہ کے لئے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط سے کام لینا چاہئے۔
کما فی الھندیة: (وأما حكمه) فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن كذا في فتح القدير.الخ (کتاب الطلاق الباب الاول فی تفسیرہ ورکنه وشروطه وحکمه ،ج:1، ص: 348 ،مط: ماجدیة)۔
وفی الھدایة:لو ولدت بعدہ تنقضی العدۃ بالولادۃ فلاتتصور الرّجعۃ الخ ( باب الرجعة ،ج:1، ص: 408 ،مط: رحمانية)۔
وفیھا ایضا: وطلاق الحامل یجوز عقیب الجماع الخ ( کتاب الطلاق ،ج:1، ص:375 ، مط: رحمانية )۔