میں جبر و اکراہ (زبردستی) کے تحت دی گئی طلاق کی شرعی حیثیت کے بارے میں فتویٰ چاہتا ہوں۔
ایک شوہر کو اس کے قریبی رشتہ داروں نے جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا، مزید نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دیں، اغوا کیا اور غیر قانونی طور پر قید میں رکھا۔ اس کا موبائل فون اور رابطے کے ذرائع چھین لیے گئے اور اسے مسلسل نگرانی میں رکھا گیا۔ اس دوران اس نے بارہا اور واضح طور پر اپنی بیوی کو طلاق دینے سے انکار کیا۔
اپنی جان اور صحت کو لاحق خطرات کے پیش نظر، اس سے درج ذیل افعال سرزد ہوئے:پہلے سے لکھی ہوئے طلاق کے کاغذات پر زبردستی دستخط کروائے گئے۔تشدد سے بچنے کے لیے عدالت کے ماحول میں نوٹسز پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا۔بعد ازاں دھمکی کے زیرِ اثر طلاق کے الفاظ بولتے ہوئے ویڈیو ریکارڈ کروانے پر مجبور کیا گیا۔یہ تمام اقدامات مرضی کے بغیر محض نقصان سے بچنے کے لیے کیے گئے۔ شوہر کا طلاق کا کبھی کوئی ارادہ نہیں تھا اور وہ مسلسل اس کی مخالفت کرتا رہا۔سوالات:1 . کیا شریعت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے جب وہ جسمانی قوت، اغوا، قید اور دھمکی (اکراہ) کے زیرِ اثر دی جائے یا دستخط کی جائے ۲. ایسی زبردستی کے تحت لیے گئے دستخط یا ویڈیو بیانات کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ ۳. کیا ایسی صورت میں نکاح اب بھی اسلام میں برقرار ہے؟ براہ مہربانی قرآن، سنت اور (اگر لاگو ہو تو) فقہ حنفی کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہوکہ اگر کسی شخص کو جان سے مارنے کی دھمکی یا شدید جبر و اکراہ کے ذریعہ طلاق دینے پر مجبور کیا جائے اور اس سے تیار شدہ طلاق نامہ پر زبردستی دستخط کرا لیے جائیں، جبکہ اس نے زبان سے طلاق کے الفاظ ادا نہ کیے ہوں، تو صرف دستخط کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
البتہ اگر وہ شخص طلاق نامہ پردستخط کرنے کے ساتھ زبان سےبھی صریح الفاظِ طلاق ادا کر دے،خواہ وہ الفاظ جبر و اکراہ کے زیرِ اثرہی اداکیے گئے ہوں تواس صورت میں جتنی مرتبہ طلاق کے الفاظ کہے گئے ہوں، اتنی ہی طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔چنانچہ اگرتین بارسے کم الفاظ اداکیے ہوں تو شوہر کو عدت کے اندر رجوع کااختیارہوگااورعدت کے بعد حلالہ شرعیہ کے بغیربھی دونوں نئے حق مہرکے تقررکے ساتھ دوبارہ عقد نکاح کرسکتے ہیں، لیکن اگرطلاق کے الفاظ تین یااس سےزائدباراداکیے گئےہوں، اس صورت میں عورت طلاقِ ثلاثہ کے ساتھ مغلظہ ہوجائےگی، جس کے بعدرجوع نہیں ہوسکتااورحلالہ شرعیہ کے بغیردوبارہ نکاح بھی جائزنہ ہوگا، جبکہ عورت عدت مکمل کرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
كما في الدر المختار: وهو نوعان تام وهو الملجئ بتلف نفس أو عضو أو ضرب مبرح وإلا فناقص وهو غير الملجئ. (كتاب الإكراه، ج: 6، ص: 128-129)
وفي الدر المختار: (وصح نكاحه وطلاقه وعتقه) لو بالقول لا بالفعل (كتاب الإكراه، ج: 6، ص: 137)
وفي رد المحتار: وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية. (كتاب الطلاق، ركن الطلاق، ج: 3، ص:236 )
وفي الدر المختار أيضا: (هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) أي عدة الدخول حقيقة (باب الرجعة، ج: 3، ص: 397، ط: إيج إيم سعيد)