کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں ،میری دوسری بیوی ہے جس سے میرا ایک بیٹا بھی ہے، گھریلو ناچاقی کی وجہ سے میرے بھائیوں نے مل کر مجھ پر دباؤ ڈالا ،اورایک ساتھ اسٹامپ پیپر پر مجھ سے وکیل کے سامنے دستخط لئے،لیکن میں نے 15 دن کے بعد اپنی بیوی سے رجوع کرلیا تھا ،دباؤ کی نوعیت یہ تھی کہ سب پہلی بیوی کی طرف داری کرنے لگے، اور کہا کہ ہم سب آپ سے قطع تعلق کرلیں گے وغیرہ،طلاق کے تین الگ الگ اسٹامپ لکھے ہوئے تھے ،تیسرے میں تین مرتبہ طلاق کے الفاظ لکھے ہوئے تھے، اور میں نے بیک وقت ان تینوں پر دستخط کرلیا تھادباؤ میں، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس سے کتنی طلاقیں واقع ہوگئی؟اور اب آئندہ کیلئے کیا حکم ہے؟
صورت مسئولہ میں سائل نے جب یہ جانتے ہوئے کہ یہ طلاق نامہ ہے ، طلاق نامہ پر دستخط کردیئے ہوں اگر چہ ایسا اس نے بھائیوں کی جانب سے قطع تعلق اختیار کرنے کی دھمکی اور دباؤ کے سبب کیا ہو ، اس کے باوجود اس کی بیوی پر تینوں طلاق واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ، چنانچہ اب رجوع نہیں ہوسکتا ، اور بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ عقد نکاح بھی شرعاً درست نہیں ہے، جبکہ عدت کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
کما جاء فی التنزیل العزیز: فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥ(البقرۃ،ایۃ:230)
و فی الشامیۃ: قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة ط(کتاب الطلاق ،مطلب فی الطلاق بالکتابۃ،ج:3،ص:246،)